تبلیغِ ہدایت — Page 67
کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : - إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ ( بخاری ) یعنی ” سچے اعمال وہی ہیں جن کے ساتھ دل کی نیت شامل ہو۔ورنہ اگر نیت نہیں تو عمل بھی کوئی عمل نہیں۔پس ثابت ہوا کہ یہ قطعاً ناممکن ہے کہ جبر کے ذریعہ کسی کو اسلام کے اندر یا کسی اور مذہب کے اندر داخل کیا جائے۔کیونکہ مذہب تو کہتے ہی اس طرز اور رویہ کو جس کے ساتھ اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہو۔اور یہ بات یکجا جبر کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہو سکتی۔پس معلوم ہوا کہ جبر کے ذریعہ کسی شخص کو کسی مذہب کے اندر داخل کر لینا محالات عقلی میں سے ہے اسی واسطے خدا وند کریم نے فرمایا ہے کہ انما عَلَى رَسُوْلِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ( سورۃ المائدہ (۱۲) یعنی ”ہمارے رسول کا تو صرف یہ کام ہے کہ لوگوں تک ہمارا پیغام کھول کر پہنچا د یوئے“۔آگے مانا یا نہ ماننا لوگوں کا کام ہے اس سے رسول کو غرض نہیں۔رسول کا کام صرف احسن طریقہ پر اپنی رسالت کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ایک اور دلیل سے بھی جبر کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے وہ یہ کہ اسلام نے نفاق کو سخت قابل نفرت فعل قرار دیا ہے اور منافق کی سزا کو کافر سے بھی زیادہ سخت رکھا ہے جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔اِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔(سورۃ نساء ع ۲۱) یعنی ” منافق لوگ دوزخ کے سخت ترین حصہ میں ڈالے جائیں گے۔مگر ظاہر ہے کہ جبر کے نتیجہ میں منافق پیدا ہوتا ہے نہ کہ سچا مومن۔پھر اسلام جبر کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے؟ اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب قرآن شریف گھلے الفاظ میں تلوار کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنے سے منع فرماتا ہے اور مذہبی معاملات میں جبر کی اجازت نہیں دیتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں تلوار اٹھائی ؟ یہ ایک سوال ہے جو اس موقع پر ضرور دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس کا حقیقی جواب پانے کے لئے ہمیں چاہئے کہ قرآن شریف کی اس آیت پر نظر ڈالیں جس میں سب سے پہلے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے:- أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ O الَّذِيْنَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ۖ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ 67