تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 68 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 68

النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا (سورة الحج: ع ) یعنی اجازت دی جاتی ہے لڑنے کی ان لوگوں کو جن کے خلاف کافروں کی طرف سے تلوار اُٹھائی گئی ہے۔کیونکہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ اُن کی مدد پر قادر ہے۔ہاں وہی مظلوم جو اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر کسی جائز وجہ کے صرف اس بناء پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دیکر ایک دوسرے کے ہاتھ سے نہ روکے تو پھر خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں جن میں خدا کا نام کثرت سے یاد کیا جاتا ہے وہ سب ایک دوسرے کے ہاتھوں مسمار کر دیئے جائیں۔یہ وہ آیت کریمہ ہے جس نے سب سے پہلے مسلمانوں کو کفار کے مقابل پر لڑنے کی اجازت دی۔اب دیکھ لو کہ اس آیت میں کس صراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کی وجہ بیان فرمائی ہے جو یہ ہے کہ فتنہ دور ہو کر مذہبی آزادی پیدا ہو۔اور یہ بھی صاف طور پر فرما دیا ہے کہ مسلمانوں نے پہل نہیں کی بلکہ جب کفار نے ان کے خلاف تلوار اُٹھائی اور ان پر طرح طرح کے کئے اور انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا تب دفع شر کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اجازت فرمائی کہ تم بھی ان ظالم کفار کے خلاف تلوار اُٹھاؤ۔تیرہ سال تک مسلمانوں نے صبر سے کام لیا اور نہایت استقلال کے ساتھ ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کیا۔آخر کار مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی تاکسی طرح کفار مکہ کی شرارتوں سے امن میں آجائیں مگر یہ لوگ پھر بھی مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے بلکہ مدینہ پر جا چڑھائی کی تب ہر طرح مجبور ہوکر مسلمانوں کو بھی تلوار اُٹھانی پڑی۔پس یہ ایک سیاہ جھوٹ ہے کہ مسلمانوں نے لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار اٹھائی بلکہ حق یہ ہے کہ انہوں نے تو مصائب کے برداشت کرنے کا وہ نمونہ دکھایا کہ تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔پس اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا کہ اسلام کی طرف جبر اور تشدد منسوب کیا جائے۔68 80