تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 30

اُس کی طرف اُٹھائے جانے کے معنے تو لا محالہ رفع روحانی ہی کے ہوں گے۔کیونکہ جب خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے تو کسی صورت میں اس کی طرف رفع جسمانی منسوب نہیں کیا جاسکتا اور اگر مسیح کا رفع الی اللہ جسمانی صورت میں مانا جاوے تو یہ ایک کلمہ مہمل ہو گا جس کے یہ معنے ہوں گے کہ حضرت مسیح جہاں تھے انہیں وہیں رہنے دیا گیا کیونکہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔پس ثابت ہوا کہ یہاں رفع جسمانی مراد نہیں بلکہ رفع روحانی مراد ہے۔پھر ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة۔(کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۲۵) یعنی ” جب کوئی شخص اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا اور نیچا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان کی طرف اُٹھا لیتا ہے۔“ اب کیا اس جگہ بھی بجسم عنصری آسمان کی طرف اُٹھانے کے معنے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو نعوذ باللہ خدا کا یہ وعدہ غلط نکلا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے مسلمانوں میں سے ہزاروں لاکھوں نیک لوگ خدا کے لئے تواضع اختیار کرتے رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی فرد واحد بھی آسمان کی طرف زندہ بجسم عنصری نہیں اُٹھایا گیا۔پس ثابت ہوا کہ اس جگہ یہ مراد نہیں کہ تواضع اختیار کرنے والے زندہ بجسم عصری آسمان کی طرف اٹھائے جائیں گے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے درجے بلند کرے گا اور ان کو رفع روحانی نصیب ہوگا اور یہی وہ معنی ہیں جو اس جگہ ہمارے مخالف علماء بھی قبول کرتے ہیں۔حالانکہ یہاں تو آسمان کا لفظ بھی ساتھ لگا ہوا ہے تو پھر کیوں حضرت مسیح کے متعلق رفع الی اللہ سے یہ مراد لیا جائے کہ وہ زندہ بجسم عنصری آسمان پر اُٹھالئے گئے۔وفات مسیح ناصری ہم نے خدا کے فضل سے قرآن اور احادیث سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہرگز 30