تبلیغِ ہدایت — Page 31
ہرگز زندہ بجسم عصری آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے بلکہ انہوں نے خدائی فیصلہ کے مطابق زمین پر ہی اپنی زندگی گزاری اور زمین پر ہی رہے۔اب میں بفضلہ تعالیٰ یہ ثابت کرتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح آسمان کی طرف نہیں اُٹھائے گئے بلکہ وہ فوت بھی ہو چکے ہیں۔ہر چند کہ ہمارا یہ فرض نہیں کہ مسیح کو فوت شدہ ثابت کریں کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ دنیا دار فانی ہے جو شخص پیدا ہوتا ہے وہ فوت بھی ہو گا جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (عنکبوت ع۶) یعنی ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے۔“ لیکن چونکہ عوام میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے کہ حضرت مسیح ناصری اب تک بقید حیات ہیں اس لئے اس غلطی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔سو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ( آل عمران ۱۵۶) یعنی ” نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مگر اللہ کے ایک رسول اور ان سے پہلے جتنے رسول گذرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے تو کیا اگرمحمد صلعم بھی ان کی طرح فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اسلام کو چھوڑ کر اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وفات مسیح کے عقیدہ کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے کیونکہ صاف فرما دیا ہے کہ جتنے رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گذرے ہیں وہ سب وفات پاچکے ہیں۔مگر کہا جاتا ہے کہ خلا کا لفظ جو اس آیت میں واقع ہوا ہے اس کے معنے مرنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ جگہ چھوڑ جانے اور گذر جانے کے بھی ہوتے ہیں اور چونکہ جو شخص آسمان پر چلا جاوے وہ بھی جگہ چھوڑ جاتا اور گذر جاتا ہے اس لئے ضروری نہیں کہ یہاں فوت ہو جانے کے معنے لئے جائیں ہم کہتے ہیں بہت اچھا! جب لغت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خلا کے معنے فوت ہو جانے کے بھی ہیں اور جگہ چھوڑ جانے کے بھی اور گذر جانے کے بھی تو ان ہر دو معنوں میں سے کسی ایک کی تعیین کے لئے ہمیں چاہئے کہ آیت پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ آیت کے قرائن کن معنوں کی تعیین 31