تبلیغِ ہدایت — Page 27
حضرت مسیح ناصری آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا حضرت مسیح آسمان پر زندہ بجسم عصری موجود ہیں؟ اس کے جواب میں اچھی طرح یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح ناصری زنده بجسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے یا یہ کہ وہ اب تک زندہ موجود ہیں۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:- فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ۔(سورہ اعراف ۲۶) یعنی ”اے بنی نوع انسان تم زمین پر ہی زندگی کے دن گزارو گے اور زمین پر ہی تمہاری موت ہوگی۔“ ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان پر دو ہی زمانے آتے ہیں۔ایک زندگی کا زمانہ ہوتا ہے اور دوسرے زندگی کے بعد وفات کا زمانہ۔ان دونوں زمانوں کو خدا تعالیٰ نے زمین کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔یعنی یہ مقرر کر رکھا ہے کہ یہ دونوں زمانے انسان زمین پر ہی گزارے گا۔اب سوال ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری با وجود انسان ہونے کے کس طرح آسمان پر اپنی زندگی کے دن گزار نے لگ گئے؟ کیا انہیں آسمان پر لے جاتے ہوئے خدا تعالیٰ اپنے اس فیصلہ کو بھول گیا کہ انسان اپنی زندگی کے دن صرف زمین پر ہی گزارے گا۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح ناصری آسمان پر ہر گز نہیں اُٹھائے گئے بلکہ انہوں نے دوسرے انسانوں کی طرح زمین پر ہی اپنی زندگی کے دن گزارے۔پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے :- قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًارَسُوْلًا۔(سورۃ بنی اسرائیل ع۱۰) یعنی ”اے رسول! کفار جو تجھ سے یہ معجزہ طلب کرتے ہیں کہ تو ان کو آسمان پر چڑھ کر دکھا دے تو تو اُس کے جواب میں ان سے کہہ دے کہ پاک ہے میرا رب اس سے کہ وہ اپنی سنت کے خلاف کرے میں تو صرف ایک انسان رسول ہوں“۔27