تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 28

اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاف اور غیر تاویل طلب الفاظ میں فرماتے ہیں کہ میں بوجہ بشر ہونے کے آسمان پر جسم عنصری کے ساتھ نہیں جاسکتا تو پھر مسیح ناصری با وجود بشر ہونے کے کس طرح آسمان پر تشریف لے گئے ؟ کیا اُن کا آسمان پر زندہ چلے جانا ان کو انسان سے کوئی بالا ہستی ثابت نہیں کرتا ؟ پس اس آیت کے ہوتے ہوئے کون مسلمان یہ بات کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ اُٹھائے گئے؟ ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو افضل الرسل ہیں وہ آسمان پر زندہ جسم عصری جانے کے رستے میں صرف اپنی بشریت کو ہی بطور روک کے بیان فرماتے ہیں لے تو مسیح جو یقینا آپ سے درجہ میں چھوٹا تھا وہ کس طرح آسمان پر جا پہنچا؟ افسوس! مسلمان مسیح کو آسمان پر بٹھا کر نہ صرف اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کر رہے ہیں۔بلکہ ایک سراسر باطل عقیدہ میں عیسائیوں کے بھی مددگار بن رہے ہیں۔کسی نے سچ کہا ہے من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم کہ بامن هرچه کرد آں آشنا کرد لے اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آسمان پر زندہ جسم عصری جانے کو بوجہ آپ کی بشریت کے ممتنع قرار دیتا ہے تو پھر معراج کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح آسمان پر تشریف لے گئے؟ اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ یہ درست نہیں ہے کہ آپ معراج میں جسم عصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے۔بلکہ حق یہ ہے کہ معراج ایک نہایت لطیف قسم کا کشف تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی آئندہ ترقیات کے متعلق دکھایا گیا جو اپنے وقت پر ظہور پزیر ہوئیں اور ہو رہی ہیں خود سلف صالحین کا ایک بڑا گروہ اس طرف گیا ہے کہ معراج جسم عصری کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ وہ ایک نہایت لطیف کشف تھا جس میں آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔چنانچہ حدیث میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلعم کا جسم مبارک معراج کی رات زمین سے جدا نہیں ہوا۔اسی طرح بہت سے اکابر علماء نے بھی لکھا ہے کہ معراج جسم عصری کے ساتھ نہیں ہوا۔جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ معراج ایک لطیف قسم کا کشف تھا جس میں آنحضرت صلعم کو آسمان پر لے جا کر آپ کی آئندہ بے نظیر ترقیات کا نظارہ دکھایا گیا اور حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ ثم استیقظ یعنی معراج کے نظارہ کے بعد آنحضرت صلم جاگ اُٹھے ( بخاری کتاب التوحید ) جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ معراج جسم عنصری کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔منہ 28