تبلیغِ ہدایت — Page 262
اگلے حصہ میں مسیح کا جو کام بتایا گیا ہے وہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس جگہ گذشتہ مسیح کا ذکر نہیں بلکہ آنے والے مسیح کا ذکر ہے کیونکہ اس کے متعلق گسر صلیب اور قتل دقبال وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو مسلمہ طور پر آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والے مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ نہ صرف یہ کہ امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے بلکہ یہ بھی کہ مسیح موعود خدا کا ایک نبی ہے۔تعجب ہے کہ ہمارے مخالف حدیث لا نَبِیَ بَعْدِی کو تو یا در کھتے ہیں مگر ان حدیثوں کو بھول جاتے ہیں جن میں صریح طور پر مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے حالانکہ حق یہ تھا کہ جب دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں تھیں تو دونوں قبول کی جاتیں اور ظاہری تضاد کو دُور کر کے اُن کے درمیان تطابق کی راہ نکالی جاتی۔مگر ایسا نہیں کیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے مخالفین کو محض اپنی خواہشات کی پیروی منظور ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع منظور نہیں۔ورنہ رستہ صاف تھا کہ جہاں لا نَبِيَّ بَعْدِی کہا گیا ہے وہاں شریعت والی نبوت مراد ہے اور جہاں اپنے بعد کسی نبی کی خبر دی گئی ہے وہاں غیر تشریعی اور کلی نبوت مراد ہے۔اس طرح دونوں قسم کی حدیثیں اپنی اپنی جگہ سچی ثابت ہوتی ہیں اور کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا۔نبوت کے متعلق بحث کا خلاصہ خلاصہ کلام یہ کہ یہ ایک خطرناک غلطی ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند سمجھ لیا گیا ہے۔قرآن شریف اور حدیث نبوی اس عقیدے کی ہرگز تعلیم نہیں دیتے بلکہ بڑی وضاحت کے ساتھ بتا رہے ہیں کہ نبوت کا انعام اب بھی اُسی طرح جاری ہے جس طرح پہلی اُمتوں میں جاری تھا مگر اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک نہیں ہے بلکہ آپ کی ارفع شان کا اظہار ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے حضرت مسیح موعود نے یہ انعام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اور آپ کا ظل بن کر حاصل کیا ہے لیکن پہلے نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں گذرا جس نے اپنے نبی متبوع کی پیروی سے نبوت کا انعام پایا ہو بلکہ وہ براہ راست خدا سے یہ انعام حاصل کرتے تھے اور کسی گذشتہ نبی کی پیروی کا اس میں دخل نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی 262