تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 261 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 261

اسی طرح بخاری کی ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں:۔انا أولى الناس بابن مريم والانبیاء اولاد علّات لیس بینی وبینہ نبی۔بخاری باب و اذکر فی الکتاب (مریم) اور ابو داؤد کی ایک حدیث میں فرماتے ہیں :- لیس بینی و بینۂ نبی وَانَّہ نازل فاذارأيتموه فاعرفوه (ابوداؤد کتاب الملاحم) یعنی میں سب لوگوں کی نسبت مسیح ابن مریم سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں اور ویسے گوما میں مختلف ہوں مگر سب نبی در اصل روحانی لحاظ سے ایک ہی باپ کے بیٹے ہوتے ہیں اور میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں اور مسیح آئندہ زمانہ میں نازل ہونے والا ہے۔پس جب تم اُسے دیکھو تو ضرور پہچان لینا۔“ اب دیکھو اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو نبی کے نام سے یاد کیا ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ گوسب انبیاء ایک دوسرے کے پدری بھائی ہیں مگر میں سب سے زیادہ مسیح موعود کے مشابہ ہوں جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک مسیح موعود زمرہ انبیاء میں داخل ہے دوسرے اس حدیث میں آپ یہ بھی صراحت فرماتے ہیں کہ میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں اور سابقہ مسیح سے ممتاز کرنے کے لئے یہ تشریح فرماتے ہیں کہ اس جگہ میری مراد اس صحیح سے ہے جو آئندہ نازل ہونے والا ہے۔ان الفاظ کے بھی صاف یہی معنے ہیں کہ مسیح موعود اللہ کا نبی ہے کیونکہ جب آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی اور نبی نہیں تو ان الفاظ کا طبعی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسیح موعود خدا کا نبی ہے۔علاوہ اس کے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہ نازل" کے الفاظ فرما کر عیسی بن مریم کی شخصیت بھی معین فرما دی ہے اور فیصلہ کر دیا ہے کہ اُس سے بنی اسرائیل کا مسیح مراد نہیں جو گذر چکا بلکہ امت محمدیہ کا مسیح مراد ہے جو آخری زمانہ میں آنے والا ہے اس حدیث کے 261