تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 14

آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:- دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔(تذکرہ صفحہ ۱۰۵) یہ خدا کا کلام ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔مگر مبارک ہیں وہ جو سزا سے نہیں بلکہ پیار سے مانتے ہیں اور پکارنے والے کی آواز کو ڈر نہیں بلکہ محبت سے سنتے ہیں۔انہی لوگوں کے واسطے ہم اس رسالہ میں مختصر طور پر اس روحانی مصلح کی صداقت کے دلائل لکھنا چاہتے ہیں تا وہ جو پیاسے ہیں۔پانی سے سیراب ہوں اور وہ جو بھو کے ہیں کھانے سے اپنا پیٹ بھریں اور وہ جو شک و شبہات کی سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں اس روحانی سورج کی دھوپ میں گرمی حاصل کریں۔مگر ہم اس رسالہ میں صرف اسلامی نقطۂ خیال سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر نظر ڈالیں گے اور قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور عقلِ خدا داد کی روشنی میں آپ کے صدق کو پرکھیں گے کیونکہ باقی مذاہب کی پیشگوئیوں اور علامات موعودہ کے مطابق آپ کو ناپنے کی نہ تو اس مختصر رسالہ میں گنجائش ہے اور نہ اس وقت یہ سوال ہمارے زیر نظر ہے۔وماتوفیقنا الا باللہ العظیم۔تحقیق کا طریق سب سے پہلے ہم تحقیق کے طریق کے سوال کو لیتے ہیں۔ظاہر ہے کہ تحقیقات ہمیشہ کسی اصول کے ماتحت ہونی چاہئے ورنہ نتیجہ بھی درست نہیں نکل سکتا۔بلکہ ویسا ہی نکلے گا جو ایک کہاوت کی رو سے چار اندھوں کا نکلا تھا۔کہتے ہیں چار اندھے تھے ان کو ہاتھی دیکھنے کا شوق ہوا۔جس پر انہوں نے اپنے کسی ساتھی سے کہا کہ جب کبھی یہاں کوئی ہاتھی آئے تو ہمیں بتانا ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے چنانچہ جب کوئی ہاتھی آیا تو اس نے ان کو خبر دی اور وہ باہر نکل آئے اور ٹولتے ہوئے ہاتھی کے پاس پہنچے ان میں سے ایک کا ہاتھ ہاتھی کے پیٹ پر پڑا۔دوسرے کا ہاتھ ہاتھی کی ٹانگ پر پڑا۔تیسرے کا سونڈ پر اور چوتھے کا کان پر اور انہی کو وہ اپنے ہاتھ سے ٹٹولتے رہے۔جب وہ دیکھ بھال چکے تو کسی نے ان سے پوچھا کہ حافظ جی! آپ نے ہاتھی دیکھ لیا۔اب 14