تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 13 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 13

ہے اور اس مصلح کو قبول کر کے خدا کے انعامات کا وارث بنتا ہے۔جو اس نے ازل سے انبیاء کی فرمانبردار جماعتوں کے واسطے مقدر کر رکھے ہیں۔اور افسوس پھر افسوس اُس پر جو مصلح کے انتظار میں تھا اور دن رات اس کی راہ دیکھتا تھا مگر جب وہ آیا تو اس نے انکار کر دیا اور خدا کے غضب کو اپنے سر لے لیا۔اگر دلائل چاہو تو ان کی بھی کمی نہیں مگر آنکھ دیکھنے والی چاہئے۔کیونکہ سب سے زیادہ دلائل لانے والا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔مگر نہ دیکھنے والی آنکھ آپ کو بھی نہ دیکھ سکی۔وہ ٹور کا ماہتاب تھا اور ہدایت کا آفتاب مگر کتنے ہیں جنہوں نے اس کو شناخت کیا ؟ کیا مکہ کے حکیم لے نے اس کو پہچانا؟ کیا یونان کا فلسفی اُسے سمجھا؟ کیا اب یورپ کے دقیقہ بین کی آنکھ اُسے دیکھ سکی؟ قرآن نے سچ فرمایا ہے کہ:- وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۖ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِينَ وَالَّذِينَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔یعنی ”جس شخص کو خدا گمراہ قرار دے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے اور خدا صرف دل کے اندھوں کو ہی گمراہ قرار دیتا ہے ورنہ جولوگ ہمارے راستہ میں سچی نیت سے کوشش کرتے ہیں انہیں ہم ضرور سیدھا راستہ دکھا دیتے ہیں“۔حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے خدا سے الہام پا کر یہ دعویٰ کیا کہ میں مسلمانوں کے واسطے مہدی ہوں۔عیسائیوں کے لئے مسیح ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں اور دوسری قوموں کیلئے ان کا موعود ہوں اور خدا نے مجھے اس زمانہ میں دنیا کی روحانی اصلاح کے واسطے مبعوث کیا ہے مگر خدا کی قدیم سنت کے مطابق ابھی تک تھوڑے ہیں۔جنہوں نے آپ کو قبول کیا ہے اور بہت ہیں جنہوں نے آپ کو رڈ کر رکھا ہے۔اسی لئے خدا نے اے ابو جہل جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اشد ترین معاند تھا۔وہ مکہ والوں میں اپنی دانائی کی وجہ سے ابوالحکم کے نام سے مشہور تھا۔یعنی حکمت و دانائی کا باپ۔مگر باوجود اس کے وہ ہدایت سے محروم رہا۔13