تبلیغِ ہدایت — Page 210
گے۔نیز فرمایا۔رسولوں اور مومنوں کو اس دنیا میں ہی ہماری طرف سے رؤیا والہام کے ذریعہ بشارتیں ملاکریں گی۔“ یہ وہ سرٹیفکیٹ ہے جو اس دنیا میں مومن کو خدا کی طرف سے ملتا ہے اور جس کے بعد اُس کے ایمان میں شک کرنا پرلے درجہ کی جہالت ہوتی ہے۔گویا پہلی پانچ علامتیں بندہ کی طرف سے پوری کی جاتی ہیں اور یہ علامت خدا کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے اور اس آخری علامت کا پایا جانا بھی ضروری ہوتا ہے تا حق و باطل میں التباس نہ ہو سکے۔کیونکہ گو عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے۔لیکن پھر بھی عوام کو دھوکا دینے کے لئے یا بعض صورتوں میں خود اپنے نفس کو ہی دھوکا دینے کے لئے انسان بعض اوقات غلط طور پر ایسا خیال کر لیتا ہے کہ مجھ میں ایمان کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔حالانکہ دراصل وہ نہیں پائی جاتیں۔یا کسی دوسرے کے متعلق خیال کرتا ہے کہ اُس میں یہ علامتیں نہیں پائی جاتیں۔حالانکہ دراصل وہ پائی جاتی ہیں تو ان صورتوں میں یہ آخری علامت جو خدا کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے ایک فیصلہ کن معیار بن جاتی ہے اب دیکھ لو کہ اس علامت کی رُو سے بھی یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ احمدیہ جماعت ہی اس ایمان پر قائم ہے جس کو خدا نے ایمان قرار دیا ہے۔حضرت مرزا صاحب کو کس طرح اپنے مخالفین کے مقابلہ میں نصرت الہی نے کامیاب کیا اس کی مختصر کیفیت او پر بیان ہو چکی ہے۔اسی طرح اگر احمدیوں کے حالات پر بھی نظر ڈالی جائے تو صاف طور پر نصرت الہی اور بشارتوں کے وعدے اُن کے ساتھ کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور خدا کے فضل سے لاکھوں احمدیوں نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی رنگ میں خدائی نصرت کا مشاہدہ کیا ہے اور ہزاروں احمدی ایسے ہیں جن کو خدا نے رویائے صالحہ اور کشوف والہامات سے مشرف فرمایا ہے۔وذلک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم مسیح موعود کے کام کی تخمریزی مکمل ہو چکی ہے الحمدللہ کہ اب میں مسیح موعود کی دسوا میں علامت کے مطابق یہ بات ثابت کر چکا ہوں کہ 210