تبلیغِ ہدایت — Page 174
پھر کمیٹی نے اس کے لئے جلسہ کی تاریخوں میں ۲۹ دسمبر کی زیادتی کر دی۔یہ بات ملاحظہ ہو کہ سول اخبار نے حضرت مرزا صاحب کی تقریر کے سوا اور کسی تقریر کا ذکر تک نہیں کیا اور اس جلسہ کی اُس رپورٹ میں جو ہندوؤں کی طرف سے مرتب ہوئی حضرت مرزا صاحب کی تقریر کے متعلق یہ الفاظ درج کئے گئے :- پنڈت گوردھن داس کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا، لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجنے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھر نے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پر ہو گیا۔اس وقت کوئی سات ہزار کے قریب مجمع تھا مختلف مذاہب وملل اور مختلف سوسائیٹیوں کے معتد بہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگر چہ گر سیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا لیکن صد با آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤساء، عمائد پنجاب، علماء، فضلاء، بیرسٹر وکیل، پروفیسر، اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر، ڈاکٹر غرضیکہ اعلیٰ اعلیٰ طبقہ کی مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔انہیں نہایت صبر و قتل کے ساتھ جوش سے برابر چار پانچ گھنٹے اُس وقت گویا ایک ٹانگ پر کھڑارہنا پڑا۔اس مضمون کے لئے اگر چہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی مقرر تھے لیکن حاضرین جلسہ کو اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ ماڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو تب تک کا رروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جاوے ان کا ایسا فرمانا عین اہلِ جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقت کے گذرنے پر مولوی مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دید یا تو حاضرین اور ماڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔یہ مضمون شروع سے آخر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا“۔( دیکھور پورٹ جلسہ اعظم مذاہب لاہور ) پھر اُسی جلسہ میں سکھوں کے لیکچر ارسردار جواہر سنگھ صاحب نے اپنی تقریر کے دوران 174