تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 5

جاۓ۔پس جب کبھی بھی مسلمان بے دینی اور بد اعمالی کی طرف مائل ہوئے ہیں اور ان میں اسلامی تعلیمات کی روح کمزور ہونی شروع ہوئی ہے۔اور غلط عقائد اور فاسد خیالات اسلام کے اندر شامل ہونے لگے ہیں اور مسلمانوں کا ایمان کمزوری کی طرف مائل ہوا ہے اور دہریت اپنا رنگ ظاہر کرنے لگی ہے اور حالات بگڑنے شروع ہوئے ہیں۔غرض جب کبھی لا مذ ہبی نے زور پکڑا ہے تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی ہدایت کے لئے اپنے حکم کے ساتھ کسی مسجد دکو کھڑا کر دیا ہے تا وہ خدا کے تازہ نشانات کے ساتھ لوگوں کے ایمان کو زندہ کرے اور اپنے پاک نمونہ کی مدد سے ان کو پھر مذہب کی مستحکم چٹان پر قائم کر کے اسلام کی صحیح صحیح تعلیم سکھائے اور ان کے غلط عقائد اور فاسد خیالات کی اصلاح کرے۔ایسے لوگ ہمیشہ اسلام کے اندر پیدا ہوتے رہے ہیں اور یہی اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام ایک چھوڑے ہوئے باغ کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا مالی ہر وقت اس کی حفاظت اور اصلاح کی فکر میں ہے اور نیز یہ کہ اس کے درخت اپنی عمر ختم نہیں کر چکے بلکہ اب بھی پھل دے رہے ہیں مگر دوسرے مذاہب کا یہ حال نہیں۔یعنی ان میں ایسے لوگوں کا وجود مفقود ہے جو خدا کے حکم کے ساتھ دنیا میں اصلاح کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور جنہیں خدا اپنے کلام اور قرب سے مشرف کرتا ہے۔ظاہری علم زندگی کا ثبوت نہیں اور نہ وہ زندگی بخش ہے بے شک ظاہری علوم کے لحاظ سے ہر مذہب اپنے عالم رکھتا ہے مگر یہ علم زندگی کا ثبوت نہیں کیونکہ ایسے لوگ ان خشک لکڑیوں سے بڑھ کر نہیں جو ایک اُجڑے ہوئے باغ میں ملتی ہیں بلکہ زندگی اس کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اور اس کے زندہ کلام سے زندگی حاصل کر کے کوئی شخص اصلاح کے واسطے کھڑا ہو۔مگر خوب دیکھ لو کہ یہ لوگ سوائے اسلام کے اور کہیں نظر نہیں آئیں گے۔دنیا کے اندر اصلاح کرنا ہر ایک کا کام نہیں اور دہریت کے گڑھے سے نکال کر توحید اور ایمان باللہ کی مستحکم چٹان پر قائم کر دینا محض ظاہری علوم کی مدد سے نہیں ہوسکتا۔ظاہری علم کے زور سے اگر کوئی شخص خدا کی ہستی منوا سکتا ہے تو صرف اس حد تک کہ کوئی خدا ہونا چاہئے“۔اس 5