تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 138

آریوں کو یہ خبر سنادی۔چنانچہ اس کے بعد بہت جلد سوامی جی اپنے متبعین کو داغ جدائی دے گئے۔( دیکھو حقیقۃ الوحی وغیرہ) اس کے بعد جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے منشی اندر من مراد آبادی مقابلہ میں آیا یہ شخص بہت تیز مزاج اور بد زبان تھا اس کے کلام کا نمونہ ملاحظہ کرنا ہو تو دیکھو کتاب البریہ جس میں حضرت مرزا صاحب نے غیر مسلموں کی خوش کلامی کے چند نمونے درج کئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اتمام حجت کی غرض سے ۱۸۸۵ء میں یہ اعلان شائع کیا تھا کہ کوئی غیر مذہب کا پیر و جو اپنے مذہب میں ممتاز حیثیت رکھتا ہو ایک سال تک میرے پاس آکر قادیان میں رہے اگر اس عرصہ میں وہ کوئی نشان صداقتِ اسلام کی تائید میں نہ دیکھے تو میں اُسے دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے چوبیس سو روپیہ نقد ادا کروں گا اور اگر وہ کوئی خدائی نشان ملاحظہ ادا کرلے تو پھر اس کا فرض ہوگا کہ یہیں قادیان میں مسلمان ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کر دے اور روپیہ کے متعلق وہ جس طرح چاہے تسلی کرالے۔اس اعلان پر یہی شخص اندر من بڑے جوش و خروش کے ساتھ اُٹھا اور مقابلہ میں آنے پر آمادگی ظاہر کی اور لکھا کہ روپیہ مجھے پہلے دکھا دو اور پھر میرے سامنے کسی معتبر جگہ بطور امانت کے رکھواد و تو پھر میں اس کے لئے تیار ہوں اور اسی غرض کے لئے وہ نابھہ سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا۔حضرت مرزا صاحب نے فوراً اپنے ایک مخلص مرید میاں عبد اللہ صاحب سنوری کو قادیان سے روانہ کیا اور اُن کو لاہور کے بعض دوستوں کے نام خط دیگر تاکید کی کہ لا ہور سے روپیہ لیکر اندر من صاحب کے پاس چلے جاویں۔چنانچہ وہ گئے اور لاہور کے بعض دوستوں کے ساتھ مل کر اندر من کو رات کے وقت ہی تحریری پیغام پہنچا دیا کہ ہم روپیہ لیکر صبح آئیں گے آپ اپنے مکان پر رہیں۔چنانچہ رات کو انہوں نے روپیہ کا انتظام کر لیا اور صبح منشی اندرمن کے مکان پر پہنچے۔مگر دیکھتے کیا ہیں کہ منشی اندر من صاحب ندارد ہیں۔پتہ لیا تومعلوم ہوا کہ وہ تو رات کو ہی ریل پر سوار ہو کر کہیں چل دیئے۔بس اندر من صاحب کے روحانی مقابلہ کا تو اسی پر خاتمہ ہو گیا۔گھر پر جا کر انہوں نے اپنے فرار پر پردہ ڈالنا چاہا مگر سورج پر خاک ڈالنے سے کیا بنتا ہے۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کے اشتہارات کا مجموعہ تبلیغ رسالت) 138