تبلیغِ ہدایت — Page 137
روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ موجودہ وید کی تعلیم سراسر ناقص اور مشرکانہ ہے اور ہرگز اس قابل نہیں کہ انسان کے اندر حقیقی ایمان اور سچی اصلاح پیدا کر سکے۔آپ کے اِن مضامین نے آریوں کے دانت کھٹے کر دیئے حتی کہ بعض نے انہی دنوں میں حضرت مرزا صاحب کو قتل کی دھمکیاں دیں اور اس مضمون کے گمنام خطوط آپ کو بھیجے۔(دیکھو شحنہ حق ) مگر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا کام جاری رکھا بلکہ آر یہ دھرم نسیم دعوت۔سناتن دھرم۔قادیان کے آریہ اور ہم وغیرہ نہایت زبر دست کتب تصنیف فرما کر آریوں کے گرتے ہوئے قلعہ پر مزید گولہ باری کی اور بالآخر جب سے 190 ء میں آریوں نے لاہور میں بمقام وچھو والی ایک جلسہ مذاہب منعقد کیا اور آپ کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی تو آپ نے ایک نہایت زبر دست مضمون لکھ کر بھیجا۔مگر آریوں نے خلاف وعدہ اور خلاف قوانین مہمان نوازی اور خلاف قانون تہذیب اپنے لیکچر میں پرلے درجہ کی بد زبانی اور طعنہ زنی اور دل آزاری سے کام لیا اور اسلام اور مقدس بانئی اسلام کو بُری طرح کو سا۔جب اس جلسہ کی خبر حضرت مرزا صاحب کو پہنچی تو آپ کی اسلامی غیرت جوش میں آئی۔اس پر آپ نے وہ نہایت زبر دست اور بے نظیر تصنیف فرمائی جس کا نام چشمہ معرفت ہے۔گو یا واقعی آپ نے اپنے قلم کی جنبش سے معرفت کے چشمہ کا منہ کھول دیا۔یہ وہ آخری گولہ تھا جو آپ کی طرف سے مناظرہ کے میدان میں آریہ کیمپ پر چلایا گیا۔اور جو شخص اس کتاب کا مطالعہ کرے وہی سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے ان ہاتھوں میں کیا طاقت رکھی تھی جنہوں نے اس گولے کو تیار کیا۔دشمن جس نے عداوت کی ٹھانی ہو چپ نہیں ہوا کرتا مگر اس کی مذ بوجی حرکات عظمند آدمی کو بتادیتی ہیں کہ زخم کاری لگا ہے جو جانبر نہ ہونے دیگا۔یقیناً وہ شخص جو خدمت اسلام کی نیت سے سرمہ چشم آریہ اور چشمہ معرفت وغیرہ کو اپنے ہاتھ میں لیکر نکلے گا وہ آریہ ورت میں جہاں بھی جائے گا فتح وظفر کا جھنڈا اس کے سر پر لہرائے گا اور کامیابی اس کے پاؤں چومے گی۔اب ہم روحانی مقابلہ کا ذکر کرتے ہیں۔سب سے اول یہ کہ ابھی آریہ سماج کے مقتداء سوامی دیانند بقید حیات تھے کہ حضرت مرزا صاحب نے خدا سے خبر پاکر پیشگوئی فرمائی کہ اب سوامی جی کی زندگی کا خاتمہ ہے اور عنقریب وہ اس دنیا سے گذر جائیں گے اور آپ نے بہت سے 137