تبلیغِ ہدایت — Page 108
مفہوم دل میں ڈالا جاتا ہے گویا وہ نیک یا عمدہ خیالات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں وہی الہام ہیں۔آپ نے اس خیال کو غلط ثابت کیا اور قرآنی تعلیم اور عقلی دلائل اور مشاہدہ کی بنا پر ثابت کیا کہ گووی خفی بھی کلام الہی کی ایک قسم ہے مگر زیادہ اعلیٰ اور زیادہ محفوظ کلام الفاظ کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اور قرآنی وحی بھی اسی قسم میں داخل تھی۔(براہین احمدیہ ونزول المسیح وغیرہ) پھر خدا کی صفتِ قبولیت دعا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ بعض مسلمان یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ دُعا صرف ایک عبادت ہے ورنہ یہ نہیں ہوتا کہ کسی کی دُعا کی وجہ سے خدا اپنے فیصلہ یا ارادہ کو تبدیل کرے۔آپ نے اس خیال کو بدلائل غلط ثابت کیا اور قرآنی تعلیم اور واقعات اور مشاہدہ کی یقینی دلیل سے اس کا بطلان ظاہر کیا۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کی تصانیف آئینہ کمالات اسلام و بركات الدعا وغیرہ) پھر خدا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ گویا وہ اپنے بعض بندوں کو اپنے اختیارات دے دیتا ہے اور پھر اس کے یہ بندے بھی مستقل طور پر خدا کی طرح خدائی قدرتیں دکھانے لگتے ہیں۔اس خیال نے اسلام میں اکاذیب اور جھوٹے قصوں کا ایک طور مار کھڑا کر دیا تھا۔آپ نے اس کو بدلائل غلط ثابت کیا۔(دیکھو آپ کی ڈائریاں وغیرہ وغیرہ ) پھر خدا سے اُتر کر ملائکہ کے متعلق بہت سے اختلافات تھے۔مثلاً یہ کہ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کے کیا کیا کام ہیں اور وہ کس طرح اپنا کام کرتے ہیں اور ان کی ضرورت کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے بڑی مدلل بحثوں کے ساتھ ان نازک مسائل پر روشنی ڈالی اور اس مسئلہ میں ایک سچا سچا رستہ قائم کر دیا۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کی کتب توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تصنیف ملائکتہ اللہ وغیرہ) پھر سلسلۂ رسالت کے متعلق اختلاف تھا کہ ہر قسم کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے اور اب کوئی شخص خواہ وہ آپ سے ہی فیض پانے والا اور آپ کی ہی شریعت کا خادم ہو نبی نہیں ہوسکتا۔آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ خاتم النبیین کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور سلسلۂ رسالت کے بند ہونے سے یہ مراد نہیں کہ اب کسی قسم کا بھی نبی نہیں آسکتا۔کیونکہ آنحضرت 108