تبلیغِ ہدایت — Page 88
روایت میں یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہوگی کہ تعداد میں تو کثرت ہوگی مگر دل ٹیڑھے ہوں گے۔یعنی نہ ایمان درست ہوگا اور نہ اعمال۔اور ایک روایت اس طرح پر آئی ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی جو سب آگ کے رستہ پر ہوں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت والا فرقہ ہوگا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا، لیکن اگر وہ ثریا پر بھی چلا گیا یعنی دنیا سے بالکل ہی مفقود ہو گیا تو پھر بھی ایک فارسی الاصل شخص اُسے واپس اُتار لائے گا“۔یہ وہ نقشہ ہے جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے اس آخری گروہ کا کھینچا ہے جس میں مسیح موعود کی بعثت مقدر ہے اب ناظرین خود دیکھ لیں کہ آیا اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اس نقشہ کے مطابق ہے یا نہیں؟ ہم دعوی کے ساتھ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ جب مسلمانوں کی حالت دینی لحاظ سے ایسی پست اور خراب ہوئی ہو جو اس زمانہ میں ہے اور یہ ایسی بات ہے جس پر کسی دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں۔اعمال میں سست ہونے کے علاوہ اعتقادات میں بھی وہ اندھیر ہے کہ مسلمانوں کے بہتر فرقے ہورہے ہیں جو ایک دوسرے سے عقائد میں سخت مخالف ہیں اور تو اور خود ذاتِ باری تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی بھاری اختلاف ہو رہا ہے۔پھر ایمان کا یہ حال ہے کہ ننانوے فیصدی مسلمان ایسے ہوں گے کہ جن کے دلوں سے ایمان کی طور پر پرواز کر چکا ہے۔وہ منہ سے تو اقرار کرتے ہیں کہ خدا ہے مگر دراصل دل میں خدا کے منکر ہیں اور در پردہ دہریت کا شکار ہو چکے ہیں۔صرف اعتقادی اور زبانی طور پر کہتے ہیں کہ خدا ہے لیکن ذرا گرید کر پوچھو تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی ذات کے متعلق سینکڑوں شبہات میں مبتلا ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کے متعلق بھی اُن کا ایمان کسی مستحکم براہینی چٹان پر قائم نہیں بلکہ محض جذباتی رنگ کا ہے اور بعث بعد الموت ، جزاء سزا اور فرشتوں کا وجود تو بالکل ہی وہمی قرار دیا گیا ہے۔پھر عبادت کی وہ راہیں جن پر قدم مارنے سے پہلوں نے خدا کے دربار تک رسائی حاصل 88