تبلیغِ ہدایت — Page 84
قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَاعِهِمْ ط كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ط اِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَ الْحَدِيثِ أَسَفًا هِ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا (سورة كهف ع١) یعنی ” خدا نے اپنے رسول پر ایک کتاب نازل فرمائی ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ کتاب ان لوگوں کو ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے لئے اُتری ہے جو خدا کا ایک بیٹا مانتے ہیں یہ بہت بڑے فتنہ کی بات اور سراسر جھوٹ ہے۔وغیرہ وغیرہ 66 اب اس سے بڑھ کر اس بات کا کیا ثبوت ہوگا کہ دجال سے مراد یہی مسیحی اقوام ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں غیر معمولی طور پر زور پکڑا ہے اور ساری دنیا پر چھا گئی ہیں اور اس دجال کا دجل ان کی مادیت اور فلسفہ اور باطل عقائد ہیں۔جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے مخالف مولویوں کو مخاطب کر کے ایک جگہ خوب لکھا ہے کہ نادانو ! تم دجال کو ایک عجیب الخلقت فرد سمجھ کر اس کا انتظار کر رہے ہو۔مگر یہاں تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ مہیب فتنے اور فسادات ظاہر ہورہے ہیں کہ تمہارے فرضی دجال کے باپ کو بھی یاد نہ ہو نگے۔فافہم وتدبر۔(۸) مسلم کی ایک حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تمیم داری نے دجال کو گر جے میں بندھا ہوا دیکھا تھا ( یعنی بحالت کشف یا رویا ) اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر بیان کی تھی اور پھر آپ نے یہ خبر لوگوں کو سنوائی تھی۔(مسلم جلد ۲ باب خروج الدجال) پس اب دیکھ لو کہ گر جے سے نکلنے والی کونسی قوم ہے۔چوتھی علامت چوتھی علامت یہ ہے کہ یا جوج ماجوج اپنے پورے زور میں ظاہر ہونگے اور دنیا کے بیشتر اور عمدہ عمدہ حصوں پر قابو پالیں گے اور قو میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھیں گی۔چنانچہ قرآن 84