تبلیغِ ہدایت — Page 85
شریف میں آتا ہے:- حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَاجُوجُ وَمَاجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُوْنَ اور دوسری جگہ آتا ہے :- (سورة انبياء ع) وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوْجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ (سورۃ کہف ع ۱۱) فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًاه یعنی ” جب یا جوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ ہر بلند مقام سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور قومیں ایک دوسرے کے خلاف اُٹھیں گی اور اُس وقت ایک صور پھونکا جائے گا جو ان سب کو جمع کر لے گا“۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے :- يبعث الله یاجوج و ماجوج وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔(مشکوۃ) یعنی ”آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو اُٹھائے گا۔اس حال میں کہ وہ ہر بلند جگہ سے دوڑتے پھریں گے۔اب جاننا چاہئے کہ یاجوج و ماجوج سے انگریز اور روس مراد ہیں جیسا کہ بائیبل میں بھی صراحت کے ساتھ ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔( کتاب حز قیل و مکاشفہ ) اور علامات ماثورہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔اور انگریزوں کے ساتھ شمالی امریکہ کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ وہ دراصل انہی کا حصہ ہیں۔پہلے یہ تو میں کمزور حالت میں تھیں لیکن پھر خدا نے ان کو ترقی دی اور انہوں نے دنیا کے بیشتر حصے کوگھیر لیا اور بہت طاقت پکڑ گئے اور ان کی یہ ساری ترقی موجودہ زمانہ میں ہوئی ہے پہلے یہ حالت نہ تھی اور ان کا اور دوسری قوموں کا ایک دوسرے کے خلاف اٹھنا تو ایک بدیہی بات ہے جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں اور نفخ فی الصور سے مسیح موعود کی بعثت مراد ہے کیونکہ خدا کے مرسلین بھی ایک طور یعنی انگل کی طرح ہوتے ہیں جن کے ذریعہ خدا دنیا میں اپنی آواز کو بلند کرتا ہے اور پھر ان کے ذریعہ لوگوں کو ایک نقطہ پر جمع کر دیتا ہے۔سو اب بھی انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا بلکہ ہورہا ہے مگر جس طرح پہلی رات کا چاند اکثر لوگوں کو نظر نہیں آتا اسی طرح ہر تغیر شروع میں مخفی ہوتا ہے، لیکن آہستہ 85