تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 72

نہیں۔چاہو تو قبول کر ویلے آب ہم ان دو غلط فہمیوں کو دور کر چکے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے رستے میں عوام الناس کے لئے ایک خطر ناک ٹھو کر بن رہی ہیں۔یعنی ہم بفضلہ تعالیٰ یہ ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح ناصری زندہ جسم عنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ زمین پر ہی رہے اور زمین پر ہی فوت ہو گئے اور یہ کہ وہ مسیح جس کی آمد کا وعدہ دیا گیا تھا وہ اسی امت مرحومہ میں سے ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادموں میں سے ایک خادم ہے اور کوئی بیرونی فرد نہیں ہے دوسرے ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں کوئی الگ مہدی موعود نہیں ہوگا بلکہ مسیح اور مہدی ایک ہی ہیں۔صرف دو مختلف حیثیتوں سے دو مختلف نام دیدیئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات بھی ہم نے بخوبی ثابت کر دی ہے کہ یہ ایک باطل خیال ہے کہ مہدی موعود کافروں سے تلوار کی جنگ کرے گا اور دنیا میں بلاوجہ خون کی نہریں بہائے گا۔بلکہ حق یہ ہے کہ اُس کی تلوار براہین کی تلوار ہوگی اور اس کا حربہ روحانی حربہ ہوگا اور وہ امن کے ساتھ کام کرے گا اور دلائل کے زور سے اسلام کو غلبہ دے گا۔ان امور کے طے کرنے کے بعد اب ہم اصل بحث کو لیتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب کا جو یہ دعوی ہے کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں یہ دعوی کہاں تک صحیح اور درست ثابت ہوتا ہے۔(وما توفیقی الا باللہ العظیم) ✰✰✰ لے مہدی کے متعلق مفصل بحث کے لئے دیکھو سلسلہ مضامین مصنفہ حضرت مولوی شیر علی صاحب مندرجد ر یو یوآف ریلیجنز قادیان جلدے سے اس جگہ یہ یادر ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تاریخی لحاظ سے بھی ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح ناصری صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب کے واقعہ سے بچ کر ہندوستان کی طرف ہجرت کر کے آگئے تھے اور بالآخر کشمیر میں وفات پائی جہاں سری نگر محلہ خانیار میں اب تک ان کی قبر محفوظ ہے اور خاکسار مؤلف رسالہ ہذا نے بھی اسے دیکھا ہے (دیکھو حضرت مرزا صاحب کی تصانیف " مسیح ہندوستان میں اور راز حقیقت نیز حضرت مفتی محمد صادق صاحب مبلغ لنڈن و امریکہ کی تصنیف ”قبر مسیح 72