تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 71

کیا ؟ خود اُسی کے الفاظ سنیئے :- لومڑیوں کے لئے ماندیں اور ہوا کے پرندوں کے واسطے بسیرے ہیں پر ابن آدم کے لئے جگہ نہیں جہاں اپنا سر دھرے۔(متی باب ۸ آیت۲۰) ٹھیک اسی طرح مسلمان ایک غازی مہدی کے منتظر ہیں جو کافروں کو قتل کرے گا اور ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کی بنیادر کھے گا لیکن جس طرح بنی اسرائیل کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا اسی طرح ان کے ساتھ معاملہ ہوگا کیونکہ خدا اور رسول کے وعدہ کے خلاف امید رکھ کر کوئی شخص مراد کو نہیں پہنچ سکتا۔اصل میں بات یہ ہے کہ آئندہ آنے والے مصلح کے روحانی عروج کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس کی ترقیات اور لوگوں کی مخالفت کا پورا نقشہ لوگوں کے دلوں پر جمانے کے لئے بعض اوقات جنگی اصطلاحات کو بطور استعارہ کے استعمال کیا جاتا ہے لیکن لوگ لاعلمی کی وجہ سے ایسے کلمات کے ظاہری معنوں پر جم جاتے ہیں اور پھر ان کے مطابق مدعی کو ناپتے ہیں وہ اور بھی اندھے ہو جاتے ہیں جبکہ وہ ایک دنیاوی بادشاہ کے ظہور میں اپنا نفع دیکھتے ہیں۔ایک امن سے کام کرنے الا مصلح کیا بنا سکتا ہے؟ وہ نہ تو ان کی مالی حالت درست کر سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر اُن کی حالت سنوار سکتا ہے، لیکن ایک جنگجو نبی بڑی آسانی کے ساتھ اُن کے خالی کیسوں کو بھر سکتا ہے اور ان کو ملک میں حاکم بنا سکتا ہے اس لئے ان کو کیا ضرورت پڑی کہ ان سبز باغوں سے نکل کر جھاڑ دار راستوں میں قدم رکھیں۔لیکن وہ اتنا نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مصالحوں کا اصل کام روحانی اصلاح ہے۔پس اگر وہ آتے ہی تلوار اٹھا لیں تو اُن کی بعثت کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے۔لہذا مہدی معہود کے متعلق بعض احادیث میں جنگی اصطلاحات کا استعمال کیا جانا اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ مہدی ایک دنیاوی جرنیل کے طور پر ظاہر ہوگا بلکہ ان سے صرف یہ مراد ہے کہ مہدی کی بعثت فوق العادت نشانوں کے ساتھ ہوگی اور وہ اسلام کی صداقت میں ایسے براہینِ قاطعہ لائے گا جن سے مخالفین پر گویا موت وارد ہو جائے گی۔اس کے سوا ان کا اور کوئی مطلب 71