تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 70

موقوف کرنے والا ہو گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :- وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَوْشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً فَيَكْسِرُ الصَّلِيْب وَيَقْتَلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْحَرْبُ۔(بخاری مجتبائی مولوی احمد علی صاحب والی جلد ۲ باب نزول عیسی بن مریم و نیز فتح الباری جلد ۶ ) یعنی "قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ وقت آتا ہے کہ جب تم میں ابن مریم حکم اور عدل کے طور پر نازل ہوگا۔وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کر یگا اور جنگ کو موقوف کر دے گا“۔دیکھو اس حدیث نے کس وضاحت کے ساتھ بتا دیا کہ لوگوں کو جبر مسلمان بنانا تو درکنار مہدی تو جنگوں کے سلسلہ کو بند کرنے والا ہوگا۔مگر ہمارے مسلمان بھائی پھر بھی قرآن شریف کی تعلیم کے خلاف غازی مہدی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ان تمام دلائل سے ظاہر ہے کہ کوئی غازی مہدی نہیں آئے گا بلکہ اگر کوئی آئے گا تو امن اور صلح سے کام کرنے والا آئے گا۔لیکن یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب اسلام مذہب کے معاملہ میں جبر کی تعلیم نہیں دیتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی خونی مہدی کی خبر نہیں دی تو مسلمانوں میں یہ عقیدہ کس طرح آگیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بدقسمتی سے عوام الناس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ پیشگوئیوں کے ظاہری الفاظ پر جم جاتے ہیں اور ان کے باطنی اور حقیقی پہلوکو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں مثلاً ناظرین سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ بنی اسرائیل سے یہ وعدہ تھا کہ جب اُن میں مسیح ظاہر ہوگا تو وہ ایک عظیم الشان یہودی سلطنت کی بنیاد ڈالے گا۔(ذکریا) لیکن جب مسیح ناصری نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو یہود نے دیکھا کہ وہ ایک کمزور بے یار و مددگار آدمی ہے جس نے کسی سلطنت کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ امن کے ساتھ رومی سلطنت کے ماتحت اپنی رسالت کی تبلیغ کرنے لگ گیا، ذرا یہود کی مایوسی کا اندازہ لگاؤ۔وہ ایک ایسے شخص کا انتظار کر رہے تھے جس نے انہیں بادشاہت کے تخت پر بٹھانا تھا اور ایک بڑی یہودی سلطنت کا بانی ہونا تھا، لیکن جب مسیح" آیا تو اس نے کیا 70