تبلیغِ ہدایت — Page 65
ہو گئی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں کوئی الگ مہدی نہیں ہو گا بلکہ مسیح اور مہدی کا وعدہ ایک ہی وجود میں پورا ہوگا۔اس کے بعد مہدی کے متعلق صرف ایک بات قابل حل رہ جاتی ہے جسے گوسوال زیر بحث سے تعلق نہیں لیکن چونکہ مہدی موعود کی شناخت کے رستہ میں وہ ایک بڑی روک ہے اور اس کے دُور ہو جانے کے بعد جہاں تک مہدی کا تعلق ہے کوئی اور اشکال باقی نہیں رہتا۔اس لئے مہدی کی مختصر بحث کو اسی جگہ مکمل کرنے کے لئے اس شبہ کا جواب بھی یہیں درج کر دیا جاتا ہے۔یہ سوال خونی مہدی سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی آیا مہدی موعود تلوار کے ساتھ ظاہر ہوگا اور کافروں کو تہ تیغ کرے گا یا یہ کہ وہ امن کے طریق پر ظاہر ہو گا۔اور سیف فولادی سے نہیں بلکہ سیف براہین سے اسلام کو غلبہ دے گا۔ہمارے زمانہ میں مسلمان کہلانے والوں میں عام خیال یہ ہے کہ مہدی کافروں کے ساتھ جہاد بالسیف کرے گا۔حتی کہ جزیہ بھی قبول نہیں کرے گا اور یا تو سب کافروں کو مسلمان ہونا پڑے گا اور یا وہ تلوار کے گھاٹ اتار دیے جائیں گے مگر ہمارے خیال میں یہ ایک نہایت باطل اور اسلام کو بدنام کرنے والا خیال ہے۔مہدی جہاد بالسیف نہیں کرے گا اس بحث کے لئے سب سے ضروری اور اصولی بات یہ ہے کہ ہم قرآن شریف کی تعلیم پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ آیا وہ مذہبی معاملات میں تلوار اُٹھانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ یعنی کیا اسلامی تعلیم کی رُو سے یہ جائز ہے کہ لوگوں کو بزور مسلمان کیا جاوے۔اگر اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ لوگوں کو جبراً اسلام کے اندر داخل کرو تو بے شک اس مسئلہ پر غور کرنا ہمارا فرض ہوگا کہ آیا مہدی اسلام کے لئے تلوار اٹھائے گا یا کہ صرف صلح سے کام لے گا لیکن اگر اسلامی تعلیم ہمیں صاف طور پر یہ بتائے کہ دین کے معاملہ میں جبر درست نہیں اور تلوار کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنا نا جائز ہے تو اس کے ساتھ ہی خونی مہدی کے مسئلہ کا بھی خود بخو دصفایا ہو جائے گا۔کیونکہ جب جبر جائز ہی نہیں تو ایسا مصلح کس طرح آسکتا ہے جو لوگوں کو جبراً اسلام کے اندر داخل کرے۔اب جب ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں صاف لکھا ہوا پاتے ہیں کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ 65