تبلیغِ ہدایت — Page 64
صلیب اور اصلاح امت محمدیہ دو بڑے مقاصد مد نظر تھے۔پس کاسر صلیب ہونے کے لحاظ سے وہ عیسی مسیح کہلایا اور امت محمدیہ کا مصلح ہونے کی حیثیت میں اس نے محمد مہدی کا نام پایا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حدیثوں میں جو یہ آیا ہے کہ مسیح کے نزول سے پہلے مہدی دنیا میں موجود ہوگا اور یہ کہ مہدی امامت کرائے گا اور مسیح اس کی اقتداء کرے گا وغیرہ وغیرہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی مسیح سے الگ وجود رکھتا ہے مگر یہ استدلال بھی درست نہیں۔کیونکہ جب دلائل قویہ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ مسیح کے زمانہ میں کوئی اور مہدی نہیں ہوسکتا تو یہ باتیں اپنے ظاہری معنوں میں قابل قبول نہ رہیں۔پس ضرور ان کے کوئی ایسے معنے کرنے پڑیں گے۔جو دوسری صریح احادیث کے مخالف نہ ہوں۔چنانچہ اس خیال کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو کوئی اشکال نہیں رہتا اور وہ اس طرح کہ چونکہ مقام مہدویت کے لحاظ سے آنے والا موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل اور بروز ہے اور مقام مسیحیت کے لحاظ سے وہ مسیح ابن مریم کا مثیل اور بروز ہے اس لئے اس بات میں کیا شک ہے کہ اس کی صفتِ مہدویت صفت مسیحیت پر غالب ہے پس اس مفہوم کو بطور مجاز اس رنگ میں ادا کیا گیا ہے کہ گویا مہدی امام ہوگا اور مسیح مقتدی ہوگا۔یعنی آنے والے موعود کا مقام مہدویت اس کے مقام مسیحیت کے آگے آگے ہوگا اور اس کی صفت مسیحیت اس کی صفت مہدویت کی اقتداء کرے گی اور مہدی کے پہلے سے موجود ہونے سے یہ مراد ہے۔کہ یہ موعود مصلح اپنے مقام مہدویت میں پہلے ظاہر ہوگا اور مسیحیت کا دعوی بعد میں کرے گا۔چنانچہ خدائی تصرف نے حضرت مرزا صاحب سے پہلے صرف چودھویں صدی کے مجد داعظم ہونے کا دعویٰ کروایا جو مقام مہدویت ہے اور پھر اس کے کئی سال بعد مسیح موعود ہونے کا دعوئی ہوا۔جس کی آنکھیں ہوں مذکورہ بالا بیان سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اوّل مہدی کے متعلق روایات کا نا قابل تطبیق اختلاف ظاہر کر رہا ہے کہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف مہدیوں کی پیشگوئیاں کی تھیں جو بد قسمتی سے ایک شخص کے متعلق سمجھ لی گئیں اور یا اس بارہ میں بعض احادیث غلط اور موضوع ہیں اور در حقیقت یہ دونوں باتیں ہی اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔دوسرے یہ بات ثابت 64