تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 63 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 63

موعود ہی کو امام مہدی بتاتی ہے آپ فرماتے ہیں۔يُوْشِكُ مَنْ عَاشَ فِيْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلاً فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ۔۔۔۔۔الخ۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۱۱) یعنی جو تم میں سے اُس وقت زندہ ہوا وہ عیسی بن مریم کو پائے گا جو امام مہدی ہونگے اور حکم عدل ہونگے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔دیکھو اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسی ہی امام مہدی ہونگے مگر تعجب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ایمان لانے کی وجہ سے آج ہمیں کا فر اور مرتد کہا جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کورڈی کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔افسوس ! صد افسوس !! مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی ہیں مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ مہدی معہود مسیح موعود سے الگ وجود نہیں ہے تو پھر مسلمان یہ کس طرح ماننے لگ گئے کہ مسیح اور مہدی الگ الگ ہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح ناصری آسمان پر زندہ اُٹھالئے گئے تھے اور آخری ایام میں پھر زمین پر نازل ہو نگے۔اس کے مقابل میں مہدی کے متعلق یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہی پیدا ہوگا۔لہذا جب تک مسلمان اس غلط عقیدہ پر قائم ہیں کہ مسیح ناصری ہی آسمان سے نازل ہو نگے اس وقت تک یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ مسیح اور مہدی کو ایک وجود ما نہیں۔ہاں اگر وہ مسیح کے متعلق صحیح عقیدہ پر قائم ہو جائیں اور گذشتہ مسیح ناصری کو وفات شدہ مان لیں تب اُن کے لئے مسیح موعود اور مہدی کو ایک مان لینا نہایت آسان ہو جائے گا، لیکن زمین سے پیدا ہونے والے اور آسمان سے اترنے والے کو وہ ایک نہیں مان سکتے۔یہ بات کہ ایک شخص کو دو مختلف نام دینے میں کیا حکمت تھی۔یہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں اعادہ کی ضرورت نہیں مختصر یہ ہے کہ آنے والے نے مختلف مقاصد کے ماتحت آنا تھا جن میں کسر 63