تبلیغِ ہدایت — Page 59
فرمائیں گے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ آخری زمانہ میں آپ کا ایک بروز مبعوث ہوگا جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر ایک جماعت کی تربیت کریگا۔پس ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کا نام محمد اور اس کے باپ کا نام عبد اللہ اس لئے بیان فرمایا کہ تا اس مفہوم کی طرف اشارہ ہو کہ مہدی کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا بلکہ وہ آپ کا وہی بروز ہے جس کی سورۃ جمعہ میں پیشگوئی فرمائی گئی ہے۔گویا مہدی کے نام کے متعلق محمد بن عبد اللہ کے الفاظ استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود نہ تھا کہ اس کا نام و پتہ بتایا جاوے بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ مہدی کی بعثت گویا میری ہی بعثت ہے اور مہدی کا وجود گویا میرا ہی وجود ہے اور آپ کے الفاظ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں یہ نہیں آیا کہ مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا بلکہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔يواطئی اسمه اسمی و اسم ابیه اسم ابی (مشکوۃ باب اشراط الساعتہ ( یعنی ”مہدی کا نام میرا نام ہوگا اور مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا۔پس یہ طرز کلام ہی آپ کے منشاء کو ظاہر کر رہا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ مہدی کے نسب کے متعلق زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہوگا اور باقی اقوال اس کے مقابل پر کم درجہ کے ہیں۔مگر اسے بھی درست ماننے میں کوئی حرج لازم نہیں آتا۔کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب آخَرِينَ مِنْهم والی آیت اتری تو صحابہؓ کے سوال کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ لو کان الايمان عند الثريا لناله رجل من هؤلاء ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ جمعہ )۔یعنی اگر ایمان دنیا سے اٹھ کر ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو پھر بھی ان فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک شخص اسے وہاں سے اُتار لائے گا۔گویا کہ آپ نے مہدی کو سلمان کی قوم سے قرار دیا جو فارسی الاصل تھے۔اب دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقعہ پر آپ نے اسی سلمان کے متعلق فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ (طبرانی کبیر ومستدرک حاکم)۔یعنی "سلمان" ہم اہل بیت میں سے ہے۔پس مہدی کے متعلق اہل بیت کا لفظ بھی حضرت مرزا صاحب کے دعوی کے مخالف نہیں بلکہ موید ہے اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے جو بھولنا نہیں چاہئے گویا مهدی موعود فارسی الاصل بھی رہا جیسا کہ 59