تبلیغِ ہدایت — Page 60
حدیث صحیح سے ثابت ہے اور اہل بیت سے بھی ہو گیا۔جیسا کہ عام روایات بتاتی ہیں۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح و مہدی کے متعلق فرمایا ہے کہ يُدْفَنُ مَعِيَ فِى قَبْرِى ( مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسی بن مریم )۔یعنی ”وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا“۔اس سے بھی اسی اتحاد روحانی کی طرف اشارہ مقصود تھا۔ورنہ نعوذ باللہ یہ گمان کرنا کہ کسی دن آپ کی قبر اکھاڑی جائیگی اور اُس میں مسیح و مہدی کو دفن کیا جائے گا ایک بے وقوفی اور بے غیرتی کا خیال ہے جسے کوئی سچا اور باغیرت مسلمان ایک سیکنڈ کے لئے بھی قبول نہیں کر سکتا۔پس حق یہی ہے کہ ان تمام اقوال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی طرف وو اشارہ فرمایا ہے کہ مہدی آپ کا بروز ہوگا اور اس کی بعثت گویا آپ ہی کی بعثت ہوگی۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد ہم بفضل خدا یہ ثابت کرتے ہیں کہ مہدی اور مسیح الگ الگ وجود نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں جو دو مختلف حیثیتوں کی وجہ سے اُسے دیئے گئے ہیں۔پہلی بات جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہیں وہ لفظ مہدی کا مفہوم ہے اور نیز یہ کہ آنحضرت صلی اللہ وآلہ وسلم نے مہدی کے لفظ کو اسم معرفہ کے طور پر نہیں استعمال کیا بلکہ ایک صفتی نام کے طور پر استعمال فرمایا ہے۔مہدی کے معنے ہیں۔ہدایت یافتہ اور بعض احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو بعض ان لوگوں کے متعلق بھی استعمال فرمایا ہے جو مہدی موعود نہیں ہیں۔مثلاً اپنے خلفاء کی نسبت آپ نے فرمایا کہ الخلفاء الراشدين المهديين۔(ابوداؤ دو ترمذی) یعنی ” میرے خلفاء مہدی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خلفاء ہی مہدی ہیں۔لہذا مسیح موعود چونکہ مسلمہ طور پر خلفاء رسول میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے اس لئے وہ سب سے بڑا مہدی ہوا۔اور وہی جوسب سے بڑا مہدی ہے وہی مہدی موعود ہے کیونکہ جب بموجب قول نبوی آپ کے سب خلفاء مہدی ہیں تو لازماً مہدی موعود وہی ہوگا۔جو ان میں سے خاص طور پر موعود ہے۔پس ثابت ہوا کہ گواور لوگ بھی مہدی ہوں مگر ان میں سے جو خاص طور پر موعود ہے وہی مسیح ہے۔پھر حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا کرتے تھے کہ :- 60