تبلیغِ ہدایت — Page 29
تعجب ہے کہ باوجود ان گھلی گھلی آیات کے آج کل مسلمان ایسے غلط عقیدہ پر جھے ہوئے ہیں۔قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسی زندہ بجسم عصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے۔اگر کوئی شخص ہمیں یہ دکھا دے تو ہم خدا کے فضل سے سب سے پہلے ماننے کو تیار ہیں مگر۔سارے قرآن شریف میں ایک آیت بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس سے حضرت مسیح کا زندہ جسم عنصری آسمان پر جانا ثابت ہو۔قرآن شریف میں مسیح کے متعلق رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ( یعنی اللہ نے مسیح کو اپنی طرف اُٹھا لیا) کے الفاظ کا استعمال ہونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ زندہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے کیونکہ رفع سے مراد روحانی رفع ہے نہ کہ جسمانی رفع۔جیسا کہ بلعم باعور کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ الَى الْأَرْضِ (سورہ اعراف ۲۲۶) یعنی اگر ہم چاہتے تو اپنے نشانات کے ذریعہ اسے رفع عطا کرتے لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا۔“ اب اس جگہ سب مانتے ہیں کہ یہاں رفع سے رفع روحانی مراد ہے نہ کہ رفع جسمانی حالانکہ یہاں تو زمین کا مخالف قرینہ بھی موجود ہے تو پھر کیوں خواہ مخواہ حضرت عیسی کے متعلق اس لفظ کو رفع جسمانی کے معنوں میں لیا جاوے؟ آخر مسیح کے اندر وہ کونسی بات ہے کہ جب کسی اور کے متعلق رفع کا لفظ استعمال ہو تو اس سے رفع روحانی مراد لیا جائے اور جب مسیح کے متعلق یہی لفظ آئے تو فوراً اس کے معنی رفع جسمانی کے ہو جائیں۔علاوہ ازیں حضرت مسیح کے متعلق قرآن شریف کی ایک دوسری آیت میں یہ صراحت بھی آتی ہے کہ اُن کا رفع ایسا تھا جو وفات کے بعد ہوا۔دیکھو سورہ ال عمران (۶) اور ظاہر ہے کہ موت کے بعد کا رفع روحانی ہوا کرتا ہے نہ کہ جسمانی۔پھر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ مسیح کو آسمان کی طرف اُٹھایا گیا بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ اللہ نے اُسے اپنی طرف اُٹھا لیا۔اب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے صرف آسمان کے اندر محدود نہیں پس اس کی طرف اُٹھائے جانے کے معنے آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ 29