تبلیغِ ہدایت — Page 26
الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا۔(ابوداؤد جلد ۲ کتاب المهدی) یعنی اگر دنیا کی عمر میں سے ایک دن بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس دن کولمبا کر دے گا حتی کہ وہ مبعوث کرے گا اس میں ایک شخص مجھ میں سے یا میرے اہل بیت میں سے جس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا۔وہ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ اس سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔اس حدیث میں بھی یہی اشارہ ہے کہ آنے والا مہدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظلت اور بروز ہوگا۔گویا کہ روحانی رنگ میں اس کا آنا آپ ہی کا آنا ہوگا۔غرض یہ بات مسلّم ہے اور مسلمانوں کا بچہ بچہ اسے جانتا ہے کہ اسلام میں مسیح اور مہدی کے ظہور کی خبر دی گئی ہے چنانچہ آج کل تمام اسلامی دنیا میں بڑے شدومد کے ساتھ مسیح و مہدی کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اپنی ترقی کی تمام امیدوں کو ان کی آمد کے ساتھ وابستہ سمجھا گیا ہے مگر جہاں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح و مہدی کی پیشگوئی فرمائی تھی وہاں ان کے متعلق بعض علامات بھی بیان فرمائی تھیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں کہ آیا وہ علامات سنت اللہ کے مطابق حضرت مرزا صاحب کی بعثت میں پوری ہوگئی ہیں یا نہیں، لیکن اس سے قبل دو بڑی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے جو مسیح و مہدی کے متعلق عام طور پر مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔کیونکہ جب تک وہ دُور نہ ہوں حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ ہر مسلمان کے نزدیک بادی النظر میں ہی نا قابل التفات قرار پاتا ہے وہ دو غلط فہمیاں یہ ہیں:۔اوّل مسئلہ حیات و ممات مسیح ناصری اور دوسرے یہ سوال کہ آیا مسیح موعود اور مہدی ایک ہی شخص ہیں یا کہ دو مختلف اشخاص۔آج کل عام طور پر مسلمانوں میں یہ غلط نہی پھیلی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ جسم عنصری موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں نازل ہو نگے۔دوسرے یہ کہ مسیح اور مہدی دو الگ الگ وجود ہیں اور ان غلط فہمیوں کی وجہ سے عام مسلمان حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔سو پہلے ہم انہی سوالات کو لیتے ہیں۔وباللہ التوفیق۔26