تبلیغِ ہدایت — Page 263
جامع جمیع کمالات نہ تھے ، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود با وجود جامع جمیع کمالاتِ ثبوت ہے پس پہلے جو انعام بلا واسطہ ملتا تھا اب وہ بواسطۂ قرآن اور بواسطہ حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ملتا ہے۔بیشک حضرت موسی کی امت میں بہت سے نبی آئے لیکن انہوں نے حضرت موسی کی پیروی کی وجہ سے نبوت نہیں پائی تھی بلکہ ان کی نبوت خدا کا ایک ایسا انعام تھا جو بلا واسطہ اور براہ راست اُن پر کیا گیا اور اس کے بعد وہ تو راۃ کی خدمت کے لئے مامور کر دیئے گئے۔مگر محمد رسول اللہ کا افاضہ روحانی اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ آپ کی پیروی علی قدر مراتب ہر قسم کے روحانی انعام کی جاذب ہو سکتی ہے اور آپ کی روحانی توجہ نبی تراش ہے۔اسی لئے آپ خاتم النبتين یعنی صاحب خاتم قرار دیئے گئے اور کوئی اور نبی اس نام کا مستحق نہیں ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔مگر افسوس کہ خود مسلمان کہلانے والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ عزت پسند نہ کی اور صاحب خاتم کے عالی شان مرتبہ کے متعلق نہ چاہا کہ وہ آپ کی طرف منسوب ہو۔خدا نے آپ کو خاتم النبین بنایا اور کہا کہ اب تمام کمالات روحانی کی مہر تیرے ہاتھ میں دی جاتی ہے جس پر یہ مہر ثبت ہوگی وہ انعام پائے گا اور دوسرا محروم رہے گا۔مگر مسلمانوں کو یہ مہر آپ کے مقدس ہاتھ میں نہ بھائی۔انہوں نے کہا ہم اس مہر کو نہیں مانتے ہم تو اُس مہر کے قائل ہیں جو آتی ہے توصف لپیٹ دیتی ہے۔لگتی ہے تو دفتر بند کر کے ہلتی ہے۔خدا نے فرمایا اچھا آنا عند ظن عبدی ہی۔میں تمہارے خیال کے مطابق ہی تم سے سلوک کرونگا اور اب تم پر وہی مہر لگائی جائے گی جو تم نے پسند کی ہے۔ختم الله على قلوبهم و على سمعهم و على ابصارهم غِشَاوَة- صُمٌّ بُكُمُ عمى فهم لا يرجعون۔فَإِنَّا لِلهِ وانا اليه راجعون۔(مسئلہ ختم نبوت کی مفصل بحث کے لئے خاکسار مصنف کا رسالہ ختم نبوت کی حقیقت مطالعہ فرمایا جائے )۔263