تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 260 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 260

نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ کھلا ہے۔اس کے علاوہ اس حدیث سے آیت خاتم النبین کے معنوں پر بھی کافی روشنی پڑتی ہے۔کیونکہ تاریخ اسلامی کا ادنی مطالعہ رکھنے والوں کو بھی یہ بات معلوم ہوگی کہ حضور کے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات کا واقعہ آیت خاتم النبین کے نزول سے کئی سال بعد کا ہے کیونکہ آیت خاتم النبین ۵ھ میں نازل ہوئی تھی اور صاحبزادہ ابراہیم کی وفات 9 ب ھ میں ہوئی تھی۔پس با وجود آیت خاتم النبین کے نازل ہو چکنے کے آپ کا یہ فرمانا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہو جاتا اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ آپ کے نزدیک خاتم النبیین سے یہ مراد ہرگز نہ تھی کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل مسدود ہو چکا ہے۔دوسری دلیل جو باب نبوت گھلا ہونے کے ثبوت میں حدیث سے ملتی ہے یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو جس کا اس امت میں وعدہ دیا گیا ہے نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے اور صرف ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ اسی نام سے اس کا ذکر فرمایا ہے چنانچہ صحیح مسلم میں جو حدیث نواس بن سمعان سے وارد ہوئی ہے اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دفعہ مسیح موعود کے متعلق نبی اللہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔يحصر نبی اللہ عیسی۔۔۔۔- يرغب نبی اللہ عیسی۔۔۔۔- يهبط نبی الله عيسى۔۔۔۔۔۔يرغب الله عيسى۔۔۔۔۔(دیکھو مسلم باب ذکر الدجال ) یعنی ”خدا کا نبی عیسی مسیح جو آخری زمانہ میں نازل ہوگا وہ یہ کرے گا اور یہ کر دیگا۔الخ اب اس بین دلیل کے بعد کسی شک کی کیا گنجائش رہ سکتی ہے کہ خودسرور کائنات اپنی زبان مبارک سے آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے نام سے یا دفرماتے ہیں اور صرف ایک حدیث میں چار دفعہ یہی الفاظ دُہراتے ہیں تاکسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔اس حدیث سے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہو سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ مسیح موعوداللہ کا نبی ہے۔260