تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 17

جمع ہوکر تحریر میں آئیں۔ہر چند کہ محدثین نے بڑی محنت اُٹھا کر یہ مفید ذخیرہ جمع کیا ہے اور موضوعات کو صیح احادیث سے الگ کر کے دکھایا ہے، لیکن پھر بھی ہر نظمند سوچ سکتا ہے کہ احادیث میں ضرور ایک حد تک ظن کا پہلو موجود ہے۔کیونکہ وہ اقوال جو سو ڈیڑھ سوسال بعد لوگوں کے سینوں سے جمع کئے گئے ہوں اور جن کی لفظی اور معنوی حفاظت کا بھی کوئی یقینی اور قطعی انتظام نہ ہوا ہوان کے متعلق ہرگز عقل یہ قبول نہیں کرتی کہ وہ ہر صورت میں یقینی اور قطعی ہونگے یہ صرف ہمارا ہی خیال نہیں بلکہ علماء سلف نے بھی اسی اصول کو قبول کیا ہے۔چنانچہ اصول کی سب کتابوں میں لکھا ہے کہ جب کوئی حدیث قرآن شریف کے مخالف ہو تو حدیث کو چھوڑ دینا چاہئے اور قرآن شریف کو اختیار کرنا چاہئے۔اور مصطلحات الحدیث کی کتب میں بھی صاف مذکور ہے کہ احادیث سے صرف علم ظنی پیدا ہوتا ہے۔غرض حدیث کا مرتبہ تیسرے درجہ پر ہے۔کیونکہ حدیث علم ظنی ہے اور سنت اور قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتی جن کی صحت تواتر سے ثابت ہے لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ بعض قرائن سے کبھی حدیث بھی یقین کے مرتبہ کو پہنچ جاتی ہے مثلاً اگر ایک ایسی حدیث ہوجس میں کوئی آئندہ کی خبر بتائی گئی ہوا اور پھر وہ خبر اپنے وقت پر سچی نکلی ہو تو خواہ محدثین نے اپنی رائے کے مطابق اسے کمزور ہی کہا ہو، وہ درست اور یقینی سمجھی جائے گی۔کیونکہ اس کے صدق پر اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی ہے اور واقعات نے اس کی سچائی پر مہر کردی ہے یا مثلاً ایک کمز ورحدیث ہے مگر وہ قرآن شریف کے مطابق ہے تو وہ اُن نام نہاد سیج احادیث سے بھی افضل سمجھی جائے گی جو قرآن کے مخالف ہیں۔پھر احادیث کے بھی کئی درجے ہیں اور ان کی کئی قسمیں ہیں جو کتب مصطلحات الحدیث مفصل مذکور ہیں ان مدارج کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے مثلاً اگر کوئی کمزور حدیث ہے جسے محدثین نے ضعیف لکھا ہے اور وہ ایک ایسی حدیث کے مقابلہ میں آگئی ہے جو محدثین کی اصطلاح کے مطابق صحیح ہے تو صحیح کو اختیار کیا جائے گا اور کمزور کو ترک کر دیا جائے گا۔اسی تقسیم کے لحاظ سے کتب احادیث میں بھی مدارج کا سلسلہ ہے مثلاً بخاری سب کتب احادیث سے افضل اور صحیح تر سمجھی گئی ہے اس کے بعد صحیح مسلم ہے پھر باقی صحاح ستہ ہیں اور پھر عام احادیث کی کتب ہیں۔پس تحقیقات کرتے ہوئے احادیث کے مدارج کو بھی زیر نظر رکھنا نہایت ضروری ہے احادیث میں 17