تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 16 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 16

منقولی تحقیق کا طریق پہلے ہم منقولی تحقیق کو لیکر اس کے اصول قائم کرتے ہیں۔سواس تعلق میں جاننا چاہئے کہ منقولی بحث کے لئے اسلام میں اول درجہ پر قرآن مجید ہے کیونکہ وہ علیم وحکیم خدا کا کلام ہے اور اس محفوظ صورت میں اب تک قائم ہے جس میں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا اس کی کسی آیت کسی لفظ کسی حرکت کے متعلق شبہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہر حال میں ایک قطعی اور یقینی معیار ہے۔اس لئے اگر اس کے مقابل میں کوئی روایت آئے گی تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگی اور ہمارا فرض ہوگا کہ یا تو اُس کو قرآن کے ماتحت لائیں اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو اس کو رڈی کی طرح پھینک دیں کیونکہ وہ مردود ہے۔قرآن خود کہتا ہے۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَأَيْتِهِ يُؤْمِنُوْنَ۔(سورۃ جاشیہ ع۱) یعنی قرآن کی آیات کو جو خدا کا کلام ہے چھوڑ کر لوگ کس بات کو مانیں گے۔“ دوسرے درجہ پر سنت ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا وہ تعامل مراد ہے جو مسلمانوں کے مسلسل عملی نمونہ کے ذریعہ سے ہم تک پہنچا ہے۔بعض لوگ حدیث اور سنت میں فرق نہیں کرتے مگر یہ ایک صریح غلطی ہے کیونکہ حدیث سے تو نبی کریم اور صحابہ کرام (اصطلاحی طور پر صحابہ کے اقوال کو اثر کہتے ہیں) کے وہ اقوال مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ڈیڑھ سو سال بعد جمع ہو کر تحریر میں آئے لیکن سنت کا وجود قرآن کے ساتھ ساتھ شروع سے برابر چلا آیا ہے کیونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کا وہ تعامل مراد ہے جو ہم کو حدیث کے ذریعہ سے نہیں پہنچا بلکہ مسلمانوں کی جماعت کے تعامل کے ذریعہ سے برابر مسلسل چلتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔یہ بھی قرآن شریف کے بعد یقینی اور قابل اعتبار ہے۔تیسرا درجہ حدیث کا ہے اور جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے وہ اقوال اور وہ افعال مراد ہیں جو ہم تک روایات کے ذریعہ سے پہنچے ہیں اور یہ وہ روایات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کے کچھ عرصہ بعد لوگوں کے سینوں سے 16