تبلیغِ ہدایت — Page 246
بعثت خاتم الرسل منافی خاتمیت او نیست فلا تكن من الممترين۔مکتوبات احمد یہ جلد اول مکتوب صفحه ۱-۲) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے متبعین کے لئے اتباع اور ورثہ کے طور پر کمالات نبوت کا حصول آپ کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں ہے۔پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔“ پھر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ( وفات کے ! ہجری) جو ایک بہت بڑے عالم ہونے کے علاوہ بارہویں صدی کے مجد د بھی تھے فرماتے ہیں:۔ختم به النبيون اى لا يوجد بعده من يامره الله سبحانه بالتشريع على الناس ( تفہیمات الہیہ تفهیم صفحه ۵۳) یعنی انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو جانے کے یہ معنے ہیں کہ اب کوئی ایسا شخص نہ ہو گا جسے خدا تعالیٰ کوئی نئی شریعت دیگر مامور کرے۔“ بالآخر ہمارے اپنے زمانہ میں حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی (وفات ۱۸۸۹ عیسوی ) بانی مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں :- عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خائم ہونا بایں معنے ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ کسب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں۔۔۔۔۔۔۔( تحذیر الناس صفحہ ۳) (پس) اگر بالفرض بعد زمانہ نبی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمد سی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔‘ ( تحذیر الناس صفحہ ۲۸) دیکھو یہ کیسے صاف اور واضح حوالے ہیں جو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بزرگان سلف میں سے بہت بڑی تعداد اس بات کی قائل رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہے۔مگر بلا شریعت نبوت کا دروازہ ہرگز بند نہیں۔( ان حوالہ جات کی مفصل بحث کے لئے دیکھو خاکسار مؤلف کی کتاب ختم نبوت کی حقیقت) اور پھر یہ حوالے 246