تبلیغِ ہدایت — Page 242
کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں صاف مذکور ہے کہ نبوت میں سے اب صرف مبشرات و منذرات ( منذرات اس لئے کہ وہ مبشرات کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اور گویا انہی کے اندر شامل ہیں باقی رہ گئی ہیں اور باقی تمام شعبے نبوت کے منقطع ہو گئے ہیں۔یعنی اب صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ ایک مومن کوئی خوشخبری کی خواب دیکھ لے یا اُسے کوئی بشارت کا الہام ہو جائے یا کوئی مندر خواب آجائے بس اس سے زیادہ کچھ نہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ یہی حدیث جس سے نبوت کا بند ہونا ثابت کیا جاتا ہے اُسے کھلا ثابت کر رہی ہے۔کیونکہ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک صاحب شریعت نبی اور دوسرے ایسے نبی جو کوئی نئی شریعت نہیں لاتے بلکہ اُن کے الہام میں صرف مبشرات و منذرات ہوتے ہیں۔پس اس حدیث کا یہ منشاء ہے کہ اب کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا مگر مبشرات ومنذرات والا نبی آسکتا ہے۔یہ ایک سخت دھوکا ہوگا کہ مبشرات ومنذرات کو کوئی معمولی چیز سمجھا جائے بلکہ بات یہ ہے کہ یہی مبشرات و منذرات جب اپنی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے کثرت اور کمال کے ساتھ کسی شخص کو عطا کئے جاتے ہیں تو وہی شخص نبی ہوتا ہے۔ہاں معمولی پیمانہ پر اُن کا وجو دسب مومنوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے لیکن جس طرح ایک روپیہ کا مالک مالدار نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح معمولی پیمانہ پر مبشرات ومنذرات کا حامل نبی نہیں کہلا سکتا۔ہاں جب اُن کا سلسلہ کثرت کے ساتھ جاری ہو جائے اور وہ اپنی صفائی میں بھی کمال کو پہنچ جائیں تو خدا کے نزدیک ایسا شخص نبی کہلاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو کہ گذشتہ انبیاء میں جو نبی ایسے گذرے ہیں کہ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اُن میں سوائے اِس کے اور کیا زیادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق اُن سے اس حد تک ترقی کر گیا تھا کہ انہیں مبشرات ومنذرات بڑی کثرت سے عطا کئے جاتے تھے یعنی انہیں اپنے اور اپنے متبعین کے لئے تو بشارتوں کی خبریں ملتی تھیں جو پوری ہوتی تھیں اور اُن کے مخالف منذرات سے حصہ پاتے تھے اور یہ سلسلہ اُن کے ساتھ خارق عادت طور پر کثرت کے ساتھ جاری تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ گومبشرات و منذرات على قدر مراتب سب مومنوں کو دیئے جاتے ہیں۔مگر انہی کی کثرت نبوت کہلاتی ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ اب میرے 242