تبلیغِ ہدایت — Page 15
بھلا ذرا بتائیے تو کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے؟ پہلا نا بینا بولا کہ بس ایک موٹا، چوڑا چکلا جسم ہی جسم ہوتا ہے دوسرا کہنے لگا۔نہیں۔یہ جھوٹ کہتا ہے بلکہ ہاتھی تو ایک موٹے اور اونچے۔ستون کی طرح ہوتا ہے تیسر ابولا۔یہ دونوں جھوٹے ہیں۔ہاتھی ایک نرم نرم گا ؤ دم گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے۔چوتھے نے چلا کر کہا۔معلوم ہوتا ہے ان سب کو غلطی لگی ہے بلکہ ہاتھی تو ایک پتلے اور چوڑے پنکھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ تو شاید ایک لطیفہ ہی ہے۔مگر اس سے ایک سبق ضرور حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب تک چشم بصیرت کے ساتھ کسی باقاعدہ اصول کے ماتحت کسی چیز کے متعلق تحقیق نہ کی جاوے نتیجہ ہمیشہ غلط نکلتا ہے۔پس یہ ضروری ہے کہ ہم حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کے متعلق کسی درست اصول کے ماتحت تحقیقات کریں اور وہ درست اصول ہم کو قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور گذشتہ انبیاء کے حالات اور خداداد عقل سے ملتے ہیں۔تحقیق کی تقسیم مگر تحقیق کے اصول قائم کرنے سے پہلے تحقیق کی تقسیم ضروری ہے۔سو جاننا چاہئے کہ تحقیق کے دو طریق ہیں۔اول منقولی طریق اور دوسرے معقولی طریق۔یعنی پہلا طریق یہ ہے کہ یہ دیکھا جاوے کہ منقولی دلائل کی رو سے یعنی ایسے دلائل کی رُو سے جو سابقہ روایات یا اقوال یا تحریرات پر مبنی ہیں مدعی کے دعوئی پر کیا روشنی پڑتی ہے؟ اور دوسرے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ قطع نظر منقولی دلائل کے معقولی طور پر اس کا دعوی کہاں تک قابل قبول ہے۔مثلاً اگر کسی گذشتہ صحیفہ میں یہ بتایا گیا ہو کہ موعود مصلح میانہ قد اور گندمی رنگ کا ہوگا تو یہ اُس کی تائید میں ایک منقولی دلیل ہوگی کیونکہ عقلاً یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ مصلح ضرور میانہ قد اور گندم رنگ کا ہو لیکن مثلاً یہ دلیل کہ مدعی کے دعویٰ کے وقت یہ دیکھا جاوے کہ آیا اس زمانہ میں کسی مصلح کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔کیونکہ اللہ کا کوئی فعل بلا ضرورت نہیں ہوتا تو یہ ایک عقلی دلیل ہو گی غرض تحقیقات کے یہی دو طریق ہیں۔ایک نقل اور دوسرے عقل۔15