تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 238 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 238

حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح دوسری قسم کے دلائل ہمارے مخالفین کے وہ ہیں جو حدیث پر مبنی ہیں۔اس ضمن میں عموماً وہ حدیثیں پیش کی جاتی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا نبی بعدی یا یہ که أَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاء وغیرہ۔یعنی ” میرے بعد کوئی نبی نہیں یا یہ کہ میں آخری نبی ہوں“ اور ان الفاظ سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہے۔مگر ان دونوں فقروں کا مطلب ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور بتا چکے ہیں کہ ان فقروں سے یہ مراد نہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں آسکتا بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کے دور نبوت کو ختم کرنے والا یا آپ سے آزاد ہو کر نبوت کا انعام پانے والا ہو۔نیز ایک اور بات بھی یادر رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک عام بات بیان کی جاتی ہے لیکن دراصل وہ خاص ہوتی ہے۔یعنی ایک لفظ مطلق صورت میں استعمال کیا جاتا ہے مگر دراصل وہ مقید اور محدود ہوتا ہے اور صرف قرائن سے ہی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ آیا اس جگہ لفظ مطلق مراد ہے یا کہ مقید۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ اذاهلك كسرى فلا كسرى بعده واذاهلك قيصر فلا قيصر بعده۔( بخاری کتاب الایمان ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب یہ موجودہ کسری یعنی شہنشاہ ایران مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی اور کسری نہ ہوگا اور جب یہ موجودہ قیصر یعنی شہنشاہ روم مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔‘ اب یہاں اگر قیصر اور کسریٰ کے الفاظ مطلق صورت میں لئے جائیں اور ان میں کسی قسم کی استثناء نہ سمجھی جائے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی غلط ٹھہرتی ہے۔کیونکہ جس قیصر کے وقت میں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔اس کے بعد کئی قیصر تخت نشین ہوئے اور سینکڑوں سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔پس لامحالہ اس جگہ قیصر و کسریٰ کے الفاظ کو مقید اور محدود ماننا پڑے گا۔یعنی یہ معنی لینے ہونگے کہ موجود قیصر و کسریٰ کے بعد اس شان کے قیصر و کسری نہیں ہونگے۔مگر بظاہر یہ لفظ بالکل عام اور مطلق استعمال ہوئے ہیں۔ایسی مثالیں تمام زبانوں میں 238