تبلیغِ ہدایت — Page 234
۴۔بیان کیا جاتا ہے ہر نبی چونکہ اپنے ساتھ نئی شریعت اور نئی کتاب لاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بات مسلمہ فریقین ہے کہ آپ وہ شریعت لائے ہیں جو نسل انسانی کے لئے آخری شریعت ہے اور اس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں آئے گی۔اس لئے آپ کے بعد کوئی نبی بھی نہیں آسکتا۔یہ وہ چار قسم کے دلائل ہیں جو ہمارے مخالف اپنے خیال کی تائید میں عموما پیش کیا کرتے ہیں۔آیت قائم المتین کی تشریح ان دلائل کے جواب میں سب سے پہلے ہم قرآنی آیت خاتم النبیین کو لیتے ہیں جو اس بحث میں گویا اصل الاصول ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ التبين (سورۃ احزاب ع ۵ ) یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں۔“ اس آیت کے متعلق ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں جو خاتم النبین “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اُن سے مراد یہ ہے کہ آپ کے آنے سے نبوت کا سلسلہ من کل الوجوہ ختم ہو گیا ہے اور آپ ہر رنگ میں آخری نبی ہیں مگر ہمارے نزدیک یہ معنے درست نہیں ہیں۔دراصل اس آیت کے متعلق سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ خاتم کا لفظ جو حرف ت کی زبر سے ہے ایک عام عربی لفظ ہے جس کے معنے شہر کے ہیں اور انہین کا لفظ نبی کی جمع ہے۔پس عربی قاعدہ کے مطابق خاتم النبین کے معنے یہ ہوئے کہ ”نبیوں کی مہر“ اور اس صورت میں آیت زیر بحث کے یہ معنے ہونگے کہ محمد رسول اللہ کا کوئی بیٹا نہیں لیکن آپ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر ہیں۔“ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس جگہ نبیوں کی مہر سے کیا مراد ہے؟ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ خاتم 234