تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 233 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 233

صدر خدا کا نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں۔کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ظلت اور اس کی تابع اور اس کی شاخ ہے نہ کہ کوئی آزاد اور مستقل نبوت اور ایسی نبوت آنحضور کے لئے موجب ہتک نہیں بلکہ آپ کے افاضہ روحانی کا کمال ثابت کرتی ہے اور دنیا پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ تصرف نبی ہی نہیں بلکہ نبی گر بھی ہیں اور آپ ایسا عالی مرتبہ رکھتے ہیں کہ آپ کے خادم بھی آپ کے فیض سے نبوت کا درجہ پاسکتے ہیں۔یہ ہے ہمارا عقیدہ جو میں نے صاف صاف بیان کر دیا ہے تا اس معاملہ میں کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان ندر ہے۔اب میں اپنے اس عقیدہ کی تائید میں مختصر چند دلائل بھی پیش کرنا چاہتا ہوں۔مگر اس سے پہلے اُن دلائل کا رڈ ضروری ہے جو اس مسئلہ میں ہمارے مخالفین کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اور جن سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہے اس کے بعد انشاء اللہ وہ دلائل بیان کئے جائیں گے جو ہمارے عقیدہ کی تائید میں ہیں۔وما توفیقی الا باللہ العظیم - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کے دروازہ کو کلی طور پر بند سمجھنے والے لوگ اپنے زعم میں چار قسم کے دلائل رکھتے ہیں۔۱- قرآن شریف کی آیت خاتم النبیین سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بند ہو چکا ہے اور اب کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔۲- بعض احادیث میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق آخر الانبیاء یعنی میں آخری نبی ہوں۔“ یا لا نبی بعدی یعنی ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔وغیرہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔۳- کہا جاتا ہے کہ امت محمدیہ نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔233