تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 232

درجہ پالے گا۔ایسی نبوت ہمارے نزدیک ختم نبوت کے منافی نہیں اور نہ ایسے نبی کے ظاہر ہونے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کسی قسم کا رخنہ واقع ہوتا ہے بلکہ ایسی نبوت کا جاری ہونا آپ کے روحانی کمال کی ایک شاندار دلیل ہے۔پس لا ریب آپ خاتم النبیین ہیں جیسا کہ قرآن شریف بیان کرتا ہے اور لاریب آپ آخری نبی ہیں جیسا کہ حدیث بیان کرتی ہے مگر نہ ان معنوں میں جو آج کل اکثر غیر احمدی مولوی بیان کرتے ہیں بلکہ ان معنوں میں جو ہم نے ابھی بیان کئے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ ہم قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچے دل سے خاتم النبیین یقین کرتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ تنبیوں کے سرتاج اور نبیوں کی مہر ہیں۔یعنی آپ تمام کمالات نبوت کے جامع ہیں اور اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی اطاعت کے جوئے سے آزاد ہوکر نبوت کا انعام پائے اور آپ مد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں کسی قسم کا تغیر وتبدل کرے بلکہ جو بھی آئے گا وہ آپ کے ماتحت ہو کر آئے گا اور آپ ﷺ کا خادم اور آپ سے تربیت یافتہ ہوگا۔اسی طرح ہم حدیث کے بیان کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کے سلسلہ نبوت کو منقطع کر کے ایک نیا دور شروع کر دے۔کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور آپ کے بعد جو نبی بھی آئے گا وہ چونکہ آپ کا شاگرد اور آپ سے فیض یافتہ اور آپ کا خادم ہو کر آئے گا اس لئے اُس کی نبوت کا دامن لازماً آپ کی نبوت کے دامن کے اندر ہوگا نہ کہ اس سے باہر۔لہذا ایسے شخص کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی نبوت آپ کی نبوت کے بعد ہے۔کیونکہ بعد کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت کا دور ختم ہو جائے اور اس کے بعد کوئی دوسری نبوت ظاہر ہو مگر جو صورت ہم نے بیان کی ہے اُس میں آپ کی نبوت ختم نہیں ہوتی بلکہ قیامت تک اُسی کا دور جاری رہتا ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ ان معنوں کی رُو سے آپ واقعی آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آسکتا۔لہذا ہم دلی یقین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور خدا کا آخری نبی ماننے کے باوجود حضرت مرزا صاحب کو علی وجہ البصیرت اور بکمال شرح 232