تبلیغِ ہدایت — Page 224
کہ ہم نے مہدی کے باب میں بیان کیا ہے۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ مسیح موعود کی علامات میں بعض وہ علامتیں بھی داخل سمجھ لی گئی ہیں جو قرب قیامت کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔حالانکہ جیسا کہ ہم علامات کی بحث کے مقدمہ میں لکھ چکے ہیں وہ قرب قیامت کی علامتیں ہیں نہ کہ مسیح موعود کی۔پانچویں وجہ یہ ہے کہ علامات ماثورہ پر علماء نے جو حاشیے چڑھائے اور قیاسات دوڑائے ہیں اُن پر بھی خبر صحیح کے طور پر اعتماد کر لیا گیا ہے مگر ظاہر ہے کہ اُن پر ایسا اعتماد کرنا کسی طرح درست نہیں۔ان جملہ وجوہ سے ظاہر ہے کہ علامات کے معاملہ میں کئی قسم کی ٹھوکریں لگ سکتی ہیں اور علامات کی اندھا دھند تقلید کرنا ہلاکت کی راہ ہے ہاں معقول طور پر دیکھا جائے تو تمام صحیح علامتیں حضرت مرزا صاحب میں پوری ہو چکی ہیں اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ایک ثابت شدہ علامت بھی ایسی نہیں جو سنت اللہ کے مطابق ظاہر نہ ہو چکی ہو۔علامات کے متعلق ایک جامع بیان اب ہم حضرت مرزا صاحب کی ایک تحریر پر علامات کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔یادر ہے کہ مسیح موعود کی خاص علامتوں میں سے یہ کھا ہے کہ:- ا - وہ دوز رد چادروں کے ساتھ اُترے گا۔۲ - اور نیز یہ کہ وہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔اور نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔۴- اور نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا غسل کر کے حمام میں سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر سے موتیوں کے دانوں کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے۔۵- اور نیز یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔224