تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 223 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 223

ہے تو صرف اُن کتابوں میں چلتا ہے جو ان کتب سے صحت کے مقام میں فروتر سمجھی گئی ہیں۔یہ ایک بہت لطیف نکتہ ہے جو ایک صاحب ذوق کو بہت فائدہ دے سکتا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ساری علامات خود مدعی کی ذات میں پوری ہونی ضروری بھی نہیں ہوتیں بلکہ بعض اس کے بعد اُس کے خلفاء اور متبعین میں پوری ہوتی ہیں کیونکہ اس کے خلفاء اور متبعین اس سے الگ نہیں ہوتے۔دراصل علامات بیان کرتے ہوئے صرف سلسلہ کے بانی کا نام لے دیا جاتا ہے مگر عملاً بعض باتیں خود اُس میں ظاہر ہوتی ہیں اور بعض اُس کے خلفاء اور متبعین میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ سب اسی کی علامات کہلاتی ہیں۔کیونکہ وہ اس سلسلہ کا بانی ہوتا ہے اور باقی اس کے پیرو۔یعنی وہ اصل ہوتا ہے اور باقی فرع۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی چابیاں آپ ﷺ کے ہاتھ میں دی گئی ہیں۔( دیکھو بخاری ) مگر آپ وفات پاگئے اور آپ کے بعد وہ چابیاں آپ کے خلفاء کے ہاتھ میں آئیں۔اسی طرح آپ نے دیکھا کہ ملکہ فتح ہوا ہے اور اسید کو مکہ کا حاکم مقرر کیا گیا ہے۔مگر اسید فتح مکہ سے پہلے ہی فوت ہو گیا اور پھر فتح مکہ ہونے پر آپ کا م نے اسید کے بیٹے عتاب کو مکہ کا حاکم بنایا۔(دیکھو زرقانی جلد (۳) اسی طرح علم الرؤیا کی کتابیں ملاحظہ کرو ان میں صاف طور پر لکھا ہے کہ عالم رؤیا میں بعض اوقات جس آدمی کے متعلق کوئی نظارہ دیکھا جاتا ہے اُس سے اس کا کوئی بیٹا یا کوئی قریبی رشتہ دار یا متبع مراد ہوتا ہے۔چنانچہ بعض معتبرین نے اس کی بعض مثالیں بھی حدیث سے دی ہیں۔( دیکھو مقدمہ کتاب تعطیر الانام ) پس اس میں ہرگز کوئی اعتراض کی بات نہیں کہ بعض علامات ماثورہ جو حضرت مرزا صاحب میں بظاہر پوری نہیں ہوئیں وہ اپنی ظاہری صورت میں کبھی آپ کے خلفاء یا آل اولا د یا جماعت کے ہاتھ پر پوری ہوں۔نادان دشمن اس پر ہنسے گا۔مگر ہم کسی کی ہنسی کی وجہ سے ان حقائق کو کس طرح چھوڑ سکتے ہیں جو قرآن کریم اور صحیح حدیث اور تاریخ سے ثابت ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات بعض علامات دو یا دو سے زیادہ مختلف زمانوں اور مختلف آدمیوں کے متعلق بیان شدہ ہوتی ہیں مگر وہ غلطی سے ایک ہی آدمی کے متعلق سمجھ لی جاتی ہیں۔جیسا 223