تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 218 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 218

رکھی ہوں اور ایک ذرہ کے برابر بھی فرق نہ ہو تو عقل اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے شخص کا بھی انکار ہو سکتا ہے۔بلکہ ضرور ایسے شخص کو سب لوگ دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہی موعود شخص ہے اور کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہوگی۔مگر ہم دیکھتے ہیں اور قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ ہر مامورمن اللہ کا انکار ہوتا ہے اور تاریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔بلکہ مسیح موعود کے متعلق تو بعض روایتوں میں خاص طور پر ذکر آتا ہے کہ اس کا بڑی سختی سے انکار ہوگا۔حتی کہ لوگ اُسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ٹھہرائیں گے۔(دیکھو حج الکرامہ ) ان حالات میں یہ ماننا پڑتا ہے کہ سنت قدیمہ کے مطابق ضروری ہے کہ مسیح موعود بھی ایسے رنگ اور ایسے طریق پر ظاہر ہو کہ لوگوں نے اس کی آمد کا جو نقشہ اپنے ذہنوں میں جما رکھا ہو وہ نقشہ اس کے حالات سے کلی طور پر مطابقت نہ پائے اور لوگ سمجھیں کہ اس میں فلاں فلاں علامت پوری نہیں ہوئی۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آنے والا تو ان سب علامتوں کے ساتھ آئے جولوگوں نے سمجھ رکھی ہوں اور کوئی ایک علامت بھی ایسی نہ ہو جو اس میں نہ پائی جاتی ہو اور لوگ پھر بھی اُس پر ہنسی اُڑائیں اور اس کا انکار کریں۔کیا لوگوں کا سر پھرا ہوا ہوگا کہ وہ تمام علامتیں جو انہوں نے سمجھ رکھی ہونگی سب کی سب واضح طور پر دیکھ لینے کے بعد بھی ایک مدعی کا انکار کریں گے۔خلاصہ کلام یہ کہ ایک طرف تو اصولاً قرآن شریف کی رُو سے ہر مامور من اللہ کا انکار کیا جانا قطعی طور پر ثابت ہے اور مسیح موعود کا انکار کیا جانا تو خاص طور پر بعض روایتوں میں مذکور ہے۔اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ انکار عقلاً صرف اُسی حالت میں ہوسکتا ہے کہ جب ایک مدعی کسی ایسی صورت میں ظاہر ہو جو لوگوں کے خیال اور توقع کے مطابق نہ ہو۔اور اُن کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ اس میں فلاں فلاں باتیں نہیں پائی جاتیں۔اور فلاں فلاں علامتیں ظاہر نہیں ہوئیں۔پس ثابت ہوا کہ مسیح موعود کے لئے ضروری تھا کہ وہ کسی ایسے طریق پر ظاہر ہو جو لوگوں کی بعض تو قعات کے خلاف ہو۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہنا چاہئے کہ جہاں مسیح موعود کی اور علامات بتائی گئی تھیں وہاں گویا ایک علامت یہ بھی بتائی گئی تھی کہ اس کے متعلق بعض علامات جو لوگوں نے سمجھ رکھی ہونگی وہ ان کی خواہش اور خیال کے مطابق ظہور میں نہیں آئیں گی۔218