تبلیغِ ہدایت — Page 217
ابھی تک آسمان سے نہیں اُترا۔(متی ہے اسی طرح ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسیح ایک بادشاہ رسول ہوگا اور ہمیں اس کے ذریعہ بڑی سلطنت ملے گی اور ہماری کھوئی ہوئی عزت پھر لوٹ آئے گی۔اور وہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کر کے ان کو تہ تیغ کرے گا۔اور یہ باتیں ظہور پذیر نہیں ہوئیں۔(دیکھوانا جیل اربعہ ) حضرت مسیح نے انہیں جواب دیا کہ ایلیا یعنی الیاس کے آسمان سے اترنے سے اُس کے مثیل کا آنا مراد ہے اور وہ بیٹی نبی ہے جو آپکا۔(متی ) اور بادشاہت کے متعلق یہ تاویل پیش کی کہ اس سے روحانی بادشاہت مراد ہے نہ کہ ظاہری بادشاہت۔مگر یہود نے ان تاویلات کو نہ مانا اور ظاہر پراڑے رہے۔اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں وہی نبی ہوں جس کا موسیٰ نے وعدہ دیا تھا تو اُنہوں نے کہا کہ اس کی تو یہ یہ علامتیں ہیں جو آپ میں پائی نہیں جاتیں۔مثلاً ہم سے کہا گیا تھا کہ وہ نبی اسرائیل میں سے ہوگا مگر آپ اسمعیل کی اولاد ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس ساری تقریر سے ظاہر ہے کہ علامات کا جھگڑا اس زمانہ کا نیا نہیں بلکہ پرانا جھگڑا ہے جو کم از کم دو ہزار سال سے تو ضرور جاری نظر آتا ہے۔پس ایسی صورت میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔انکار کی طرف قدم اُٹھانا اچھا نہیں ہوتا۔تم کیا جانتے ہو کہ کوئی علامت خدا کی طرف سے تمہارے لئے ایک امتحان کے طور پر ہو۔پس سنبھل جاؤ اور ہوشیار ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ غفلت کی حالت میں تم اس امتحان میں پڑ جاؤ اور ناکام رہو۔یہود نے ان باتوں پر ٹھوکر کھا کر انکار کیا۔اور خدا کے غضب کے نیچے آگئے۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر تم انکار کرو گے تو تم یہود سے بھی زیادہ قابل سزا ہو گے کیونکہ اُن کے لئے پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا لیکن تمہارے لئے یہود کا بین نمونہ موجود ہے۔اور جو شخص نمونہ موجود ہونے پر بھی ٹھوکر کھاتا ہے وہ زیادہ قابل سزا ہوتا ہے۔پھر ہم کہتے ہیں کہ ناظرین اس بات پر بھی خوب غور کریں اور یہ بات بہت یادرکھنے کے قابل ہے کہ اگر کوئی شخص بالکل ان علامات کے مطابق ظاہر ہو جولوگوں نے کسی موعود کے متعلق سمجھ 217