تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 216 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 216

سب کو جھوٹا کہا گیا ہے اور سب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔اور پھر لطف یہ کہ سب کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ان میں وہ علامتیں نہیں پائی جاتیں جو صحف گذشتہ میں بیان کی گئی تھیں۔قرآن شریف فرماتا ہے:۔يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُوْلٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ نیز فرماتا ہے:- (سورۃ یسین ع۲) اَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَاتَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ (سورة بقره ١١٤) یعنی ” ہائے افسوس لوگوں پر کہ کوئی رسول بھی اُن کے پاس نہیں آتا مگر یہ اس کا انکار کرتے اور اس پر تمسخر اڑاتے ہیں۔“ ”اے لوگو! کیا یہ درست نہیں کہ جب کبھی بھی تمہارے پاس ہمارا کوئی رسول وہ بات لے کر آتا ہے جو تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تو تم تکبر کرتے ہو اور ان میں سے بعض کو جھوٹا کہتے اور بعض کے قتل کے درپے ہو جاتے ہو۔“ غرض یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے اور تاریخ شاہد کہ ہر روحانی مصلح اور ہر مامور من اللہ لوگوں کی تکذیب اور طعن و تشنیع اور ہنسی مذاق کا نشانہ بنتا ہے۔کیونکہ اُسے وہ اپنی مرضی اور اپنی خواہشوں کے مطابق نہیں پاتے۔یعنی انہوں نے اس کے متعلق کچھ اور نقشہ اپنے ذہنوں میں جما رکھا ہوتا ہے اور وہ نکلتا ہے کچھ اور۔اس کی مثالوں سے قرآن اور کتب سماوی بھری ہیں مگر اس جگہ صرف دو مثالوں پر اکتفاء کرتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام نے جب مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو یہود نے اُن کا سختی سے انکار کیا اور ان کے دعاوی پر بہت ہنسی اڑائی اور کہا کہ ہماری کتابوں میں تو آنے والے کی یہ یہ علامتیں لکھی ہیں مگر تو اُن کے مطابق ظاہر نہیں ہوا۔مثلاً انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں لکھا ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے الیاس نبی آسمان سے نازل ہوگا اور پھر اس کے بعد مسیح آئے گا۔(ملا کی ) مگر الیاس 216