تبلیغِ ہدایت — Page 211
حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ وہ کام بخیر و خوبی پورا ہو چکا ہے جو قرآن وحدیث میں بتایا گیا تھا۔پس کوئی وجہ نہیں کہ آپ کے بعد کسی اور مسیح اور مہدی کا انتظار کیا جائے۔خدا کا کوئی کام عبث نہیں ہوا کرتا۔جب خدا نے وہ کام جو اس نے مسیح موعود اور مہدی معہود کے لئے مقرر کیا تھا حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ انجام دلوادیا تو پھر یہ خیال کرنا کہ اب کوئی اور شخص آکر اس کئے ہوئے کام کا پھر اعادہ کرے گا ایک لغو اور بے ہودہ خیال ہے۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔پس اگر حضرت مرزا صاحب کے درخت نے مسیحی اور مہدوی پھل پیدا کیا ہے تو پھر انہیں مسیح اور مہدی نہ ماننے والا اور اُن کا انکار کرنے والا اپنا انجام خود سوچ لے۔اور یہ کہنا کہ ابھی کامل طور پر اس کام کے آثار ظاہر نہیں ہوئے اور نتائج کے لحاظ سے ابھی اس کا دائرہ بہت محدود ہے ایک نادانی کا خیال ہے انبیاء اور مرسلین کا کام صرف بیج بونا ہوتا ہے جو بعد میں اُگتا اور بڑھتا اور پھولتا اور پھلتا ہے۔اس لئے انبیاء کے واسطے جو کام مقرر ہوتے ہیں وہ کبھی ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کے ہاتھ سے صرف ان کی تخمریزی کی جاتی ہے یہ ایک ایسی سنت ہے جو ہر نبی کے زمانہ میں پائی جاتی ہے۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض قرآن شریف یہ بیان فرماتا ہے کہ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيرًا ( سورۃ فرقان ۱۶) نیز فرماتا ہے لِیظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه۔(سورۃ تو بہ ) یعنی ” ہم نے اس رسول کو اس غرض سے بھیجا ہے تا وہ تمام دنیا کے لئے نذیر ہو اور ساری اقوام تک اپنا پیغام پہنچائے اور اسلام کو سب ادیان پر غالب کر دکھائے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسود و اخمر کے نام اسلام کا پیغام لیکر آیا ہوں مگر کیا حضور سرور کائنات کی زندگی میں تمام دنیا تک آپ کا پیغام پہنچ گیا تھا؟ کیا ساری اقوام کو آپ نے ڈرایا ؟ اور کیا سب مذاہب کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ آپ کی تبلیغ آپ کی حیات مبارکہ میں صرف عرب کے ملک یا عرب کے متصل بعض ممالک تک محدود رہی اور دنیا کے بیشتر حصہ اور کئی مذاہب تک تو آپ کا اسم مبارک تک بھی نہیں پہنچ سکا تھا تو کیا نعوذ باللہ آپ کامیاب نہیں ہوئے اور آپ کے ذریعہ وہ کام پورا نہیں ہوا جس کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے؟ ہر گز نہیں آپ " تو ایسے کامیاب ہوئے ہیں 211