تبلیغِ ہدایت — Page 198
کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے وہ ظالم و سفاک ہو گئے پس عزیز و اور دوستو ! بت پرستی صرف یہی نہیں کہ پتھر یا لکڑی یا لوہے کا بت بنا کر اُسے سجدہ کیا جائے بلکہ ہر ایک چیز جو خدا کے رستہ میں روک ہو جاتی ہے وہ ایک بت ہے۔یعنی ہر وہ چیز جس سے انسان ایسی محبت کرتا ہے جو خدا سے کرنی چاہئے۔یا اس سے ایسا ڈرتا ہے جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے۔یا اُس پر ایسا بھروسہ کرتا ہے جیسا کہ خدا پر کرنا چاہئے وہ ایک بت ہے جس کے سامنے وہ ہر دم سر بسجود ہے۔حضرت مرزا صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ہر کہ غیر خدا بخاطر تست آں بُت تست اے بایماں سست پر حد زباش زیں بتان نہاں دامن دل زدست شاں بُرہاں چیست قدرے کسے کہ شیر کش کار چول زن زانیہ ہزارش یار یعنی ” تمہارے دل میں جو خیال بھی خدا کے سوا یعنی اس سے جُدا ہو کر اور اُس کے مقابل پر جاگزین ہے وہ ایک بت ہے جسے تم پوجتے ہو۔پس تمہیں چاہئے کہ ان مخفی بتوں سے بیچ کر رہو کیونکہ اس شخص کی کوئی قدر و قیمت نہیں جس کا دل شرک کے خیالات میں پھنسا ہوا ہے اس کا حال ایسا ہی ہے جیسے کہ اُس بد کار عورت کا جو ایک پاکباز خاوند کو چھوڑ کر ہزاروں یاروں کے ساتھ تعلق قائم کرتی پھرتی ہے۔“ اب غور کرو کہ کتنے لوگ ہیں جو بچے موحد ہیں اور کسی قسم کی بت پرستی کا شائبہ اپنے اندر نہیں رکھتے یوں کہنے کو تو ہر مسلمان موحد ہے مگر کیا یہ درست نہیں کہ وہ دل میں سینکڑوں، ہزاروں بت لئے ہوئے ہے جن کے سامنے وہ ہر آن سجدہ کر رہا ہے۔یہ خدا کے متعلق ایمان کا حال ہے پھر ملائکہ اور بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ اور تقدیر خیر و شر یعنی یہ کہ خدا ہی اس کا رخانہ کو چلا رہا ہے اور یہ کہ خواص الاشیاء سب اُسی کی طرف سے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔یہ سب باتیں جو اصول مذہب میں داخل ہیں مسلمانوں کی زبان پر تو بے شک ہیں اور ان میں بعض یہ بھی سمجھتے ہونگے کہ یہ باتیں ہمارے دل میں بھی ہیں، لیکن اگر اس اصول کے مطابق آزمایا جائے جو ہم نے ایمان باللہ 198