تبلیغِ ہدایت — Page 197
یہی وہ ایمان ہے جو خدا کے نزدیک اور اس کے نبیوں کے نزدیک سچا ایمان کہلاتا ہے اور جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ انسان آگ میں جانا قبول کرتا ہے مگر ایمان کو نہیں چھوڑتا۔پس ایمان کی حالتیں چار ہوئیں۔اوّل دکھاوے کا ایمان۔دوسرے رسمی ایمان۔تیسرے ” ہونا چاہیئے والے مرتبے کا ایمان۔چوتھے ” ہے“ کے مرتبے والا ایمان۔اور یہی آخری ایمان اصل ایمان ہے۔گویا یوں سمجھنا چاہئے کہ پہلی حالت حالت نفاق ہے دوسری حالت حالت جہالت ہے۔تیسری حالت حالت فلسفہ ہے۔چوتھی حالت حالت ایمان ہے۔یا یوں سمجھنا چاہئے کہ پہلی حالت حالت اعراض ہے۔دوسری حالت حالت غفلت ہے۔تیسری حالت حالت تلاش ہے۔چوتھی حالت حالت وصل ہے۔اب دیکھو کہ مسلمانوں میں کتنے ہیں کہ جو اصل ایمان کی حالت پر قائم ہیں۔ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان کہلانے والوں میں بہت بڑا حصہ پہلی دو حالتوں میں ہی اسیر ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان دو حالتوں سے باہر پائے جاتے ہیں اور جو تھوڑے بہت لوگ ان دو حالتوں سے باہر ہیں وہ تیسری حالت میں بھٹک رہے ہیں اس سے آگے نہیں۔والشاذ کالمعدوم۔عوام کے متعلق تو کیا کہنا ہے علماء جو دین کی گڈی کے وارث بنتے ہیں اور جن کا کام لوگوں میں ایمان پیدا کرنا ہے خود ان کا اپنا یہ حال ہے کہ پہلی اور دوسری حالت کی تاریکیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔آزاد طبع طبقہ میں جونئی روشنی کے دلدادہ کہلاتے ہیں۔بعض ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جن کی حالت تیسری حالت کے مشابہ ہے مگر علماء میں الا ماشاء اللہ تیسری حالت پر بھی کوئی شخص قائم نظر نہیں آتا۔جسے شک ہو وہ علماء کی حالت کا بطور خود مطالعہ کر کے دیکھ لے۔بیشک حضرت مرزا صاحب کے دعوے سے پہلے مسلمان علماء میں بعض نیک طبع اور صالح لوگ موجود تھے مگر وہ یا تو آپ کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہوگئے یا آپ کے دعوے سے پہلے ہی گذر گئے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں۔تقویٰ کے جامے جتنے تھے وہ چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے 197