تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 196 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 196

کی عمارت تیار ہو سکتی ہے مگر مومن وہ صرف اُسی وقت کہلائے گا کہ جب رسمی تا شیرات کے علاوہ وہ خود علی وجہ البصیرت خدا کی ہستی کو محسوس و مشہور کر کے اس کے متعلق ایک ذاتی اور زندہ یقین قائم کر لے گا ایسا یقین جیسا کہ وہ اس مادی دنیا کی چیزوں کے متعلق رکھتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ عموماً دنیا میں جس ایمان کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اوّل تو محض دکھاوے کا دعویٰ ہوتا ہے ورنہ عموماً ایسا مدعی خود بھی محسوس کرتا ہے کہ میرا دل شکوک وشبہات سے لبریز ہے دوسرے اگر وہ خود اس بات کو محسوس نہ بھی کرتا ہو اور یہی سمجھتا ہو کہ میں واقعی ایمان پر قائم ہوں تو پھر بھی وہ محض رسمی ایمان کے ماتحت ایسا سمجھتا ہے اور دراصل اس کا دل حقیقی ایمان پر قائم نہیں ہوتا۔یعنی وہ فریب خوردہ ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی حالت پر غور کرے تو بسا اوقات خود بھی سمجھ سکتا ہے کہ میرا ایمان محض ایک رسمی ایمان ہے۔تیسری حالت وہ ہے کہ ایک انسان رسمی ایمان کی حد سے تو ترقی کر لیتا ہے یعنی خود اپنے غور وخوض سے خدا کے متعلق ایک رنگ کے ایمان پر قائم ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں دلائل قویہ سے اس بات پر قائم ہو چکا ہوں کہ خدا ہے لیکن پھر بھی درحقیقت وہ مومن نہیں ہوتا کیونکہ جس چیز کو وہ ایمان سمجھتا ہے وہ خدا پر ایمان نہیں ہوتا بلکہ محض اس خیال پر ایمان ہوتا ہے کہ کوئی خدا ہونا چاہئے۔یعنی وہ عقلی دلائل سے اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کارخانہ کا کوئی خالق ہونا چاہئے اور صرف اتنے ہی احساس سے وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں نے خدا کو پالیا اور میں اُس پر ایمان لے آیا۔حالانکہ دراصل اس نے خدا کو نہیں پایا بلکہ صرف اس خیال کو پایا ہے کہ کوئی خدا ہونا چاہئے مگر اپنی نادانی یا سادگی سے وہ اسی کو خدا کا پانا اور خدا کا ایمان لانا قرار دیتا ہے حالانکہ خدا پر ایمان لانا اور اس کو پالینا تو تب سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی خدا تک پہنچ گیا ہو اور اسے پتہ لگ گیا ہو کہ خدا ہے یعنی ” ہونا چاہئے“ کے مقام سے ترقی کر کے وہ " ہے" کے مقام تک پہنچ گیا ہو اور اس نے خدا کو عملاً پا لیا ہو جس کے یہ معنے ہیں کہ اُس نے خدا کی ہستی عملاً محسوس و مشہور کر لی ہے اور اپنی روحانی آنکھوں سے اُسے اسی طرح دیکھ لیا ہے جس طرح مثلاً وہ جسمانی آنکھ سے اپنے باپ کو دیکھتا ہے یا بیٹے کو دیکھتا ہے یا سورج کو دیکھتا ہے یا اور مادی چیزوں کو دیکھتا ہے۔یہ وہ حالت ہے جسے ایمان کی چوتھی حالت کہنا چاہئے اور 196