تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 171 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 171

کے متعلق کوئی حملہ نہ ہو۔جلسہ کی تاریخیں ۲۶-۲۷-۲۸ / دسمبر ۱۸۹۶ء مقرر ہوئیں اور جلسہ کے انعقاد کے لئے انجمن حمایت اسلام لاہور کا بال عاریت لیا گیا اور اشتہاروں اور اخباروں کے ذریعہ سے اس جلسہ کی شہرت عام کر دی گئی اور شرکت کی عام دعوت دی گئی۔حضرت مرزا صاحب نے ان سوالات کے جواب میں ایک مضمون لکھا اور اپنے ایک مخلص حواری حضرت عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو دیگر لاہور روانہ کیا اور ساتھ ہی مورخہ ۲۱؍ دسمبر ۱۹۶ ء کو یعنی جلسہ سے پانچ چھ روز قبل ایک اشتہار بھی شائع کیا جس میں لکھا کہ میں نے خدا کی خاص نصرت و تائید سے یہ مضمون لکھا ہے اور مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ میرا یہ مضمون باقی تمام مضامین پر غالب رہے گا اور وہ اشتہار یہ ہے:۔جلسه اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن ہال ( بعد میں یہ جلسہ عملاً اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں منعقد ہوا تھا۔خاکسار مصنف ) میں ۲۶-۲۷-۲۸ / دسمبر ۱۸۹۶ء کو ہوگا اُس میں اِس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارے میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے اور جو شخص اس مضمون کو اوّل سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب سنے گا میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اُس میں پیدا ہوگا اور ایک نیا نور اس میں چمک اٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اُس کے ہاتھ آجائے گی۔یہ میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے داغ سے منزہ ہے۔مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے کہ تا وہ قرآن شریف کے حسن و جمال کا مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کس قدر ظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور نور سے نفرت رکھتے ہیں۔مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اس کو اوّل سے آخر تک سنیں شرمندہ ہو جائیں گی اور ہرگز 171